ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

کتے اب ڈاکٹرز کے معاون، بیماریوں کی تشخیص کریں گے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اگرچہ دنیا بھر میں اس وقت بھی کتوں کو جاسوسی سمیت کئی اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم برطانوی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کتوں کے ذریعے جاسوسی کے علاوہ جان لیوا مرضوں کی تشخیص بھی کرائی جا سکتی ہے۔ ہاں، برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کتے نہ صرف کینسر اور ذیابیطس کے چند اقسام کی تشخیص کر سکتے ہیں۔

بلکہ کتے ملیریا جیسی جان لیوا بیماری کی تشخیص بھی آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جی ہاں برطانیہ کی ’درہم یونیورسٹی’ کے سائنسدانوں نے ملیریا کی تشخیص کے لیے کتوں سے متعلق کام کرنے والے ایک سماجی ادارے کی مدد سے کتوں کی تربیت کی۔ سائنسدانوں نے ’میڈیکل ڈٹیکشن ڈاگز آرگنائیزیشن’ کی مدد سے کتوں کی تربیت کی ہے، جو بو سونگھنے کی اپنی خصوصی صلاحیت کو استعمال کرکے ملیریا کی تشخیص کریں گے۔ اس ادارے کے کتے نہ صرف ملیریا بلکہ کئی طرح کی بیماریوں کی تشخیص بھی کرتے ہیں، جنہیں پہلے تربیت دی گئی تھی۔ ملیریا کی تشخیص کے لیے کتوں کی تربیت کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق جس طرح کتے منشیات، بم اور ہتھیار سمیت دیگر چیزوں کی تلاش کا کام کرتے ہیں، اسی طرح ان میں انسان کے کپڑے اور جسم کی بو سونگھ کر ان میں بیماریوں کا پتہ لگانے کی اہلیت بھی موجود ہے۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کتوں کی تربیت کرنے والے ماہرین نے تجربے کے لیے افریقی ملک گیمبیا کے 600 بچوں کے جرابے اکٹھے کیے، جنہیں بعد ازاں تربیت لینے والے کتوں کو دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جن بچوں کے جرابے حاصل کیے گئے تھے، ان کی عمریں 5 سے 13 سال کے درمیان تھیں اور کتوں نے ان کی بو سونگھ کر ان میں ملیریا سے متاثرہ بچوں کے جرابوں کو الگ کیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ کتوں نے 175 بچوں کے جرابوں سے 30 بچوں کے جرابے الگ کیے۔

جن میں ملیریا کی تشخیص ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتوں میں جرابے اور انسانی کپڑوں کی بو سونگھ کر ملیریا کا پتہ لگانے کی اہلیت 70 فیصد درست پائی گئی۔ ماہرین نے امید ظاہر کی کہ اگر کتوں کو ایسی بیماریوں کی تشخیص کے لیے چند ماہ کی تربیت دی جائے تو وہ ایسی بیماریوں کا فوری طور پر پتہ لگانے میں ڈاکٹرز کی مدد کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ملیریا کے باعث

ہر سال دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) آج تک ملیریا سے بچاؤ کی ویکسین تیار نہیں کرسکی، تاہم اگر اس کی شناخت جلد ہوجائے تو مختلف دوائیوں کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔ 2016 میں دنیا بھر میں ملیریا سے سوا 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جب کہ اسی سال 4 لاکھ 45 ہزار انسان ملیریا کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…