ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

عراق نے غیر ملکی کرنسی ایران کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

بغداد(این این آئی)عراق کے مرکزی بینک نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چہلم میں شرکت کرنے والے ایرانیوں کے اخراجات کے سلسلے میں ڈالر اور عراقی دینار کی صورت میں مطلوبہ رقوم کی فراہمی کے لیے ایران کے ساتھ مالی تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے مرکزی بینک کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ عراق نے ایرانی حکام کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں غیر ملکی اور قومی کرنسی حوالے کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ایرانی مرکزی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد رضا حسین زادہ کے مطابق ایران نے عراق کے مرکزی بینک سے درخواست کی تھی کہ نجف اور کربلا کے صوبوں وار ایران کے ساتھ سرحدی راستوں پر رقوم کو تبدیل کرانے کے لیے250 ایرانی مراکز کھولنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم عراقی حکام نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تا کہ ایران کے خلاف امریکا کی اقتصادی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ایرانی مرکزی بینک کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ عراق نے ایرانی زائرین کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے 200 عرب عراقی دینار یعنی 16.6 کروڑ امریکی ڈالر کے مساوی رقم منتقل کرنے سے بھی انکار کر دیا۔اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے عراقی ٹریڈ بینک کی ایک شاخ کے ڈائریکٹر احمد علی صراخ نے گفتگو میں عراقی مرکزی بینک کے اقدامات کی تائید کی۔ صراخ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی لپیٹ میں آنے سے بچنا ہے۔دوسری جانب کربلا یونیورسٹی میں ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر امیر الموسوی نے بتایا کہ ڈالر کے مقابل ایرانی ریال کی شدید گراوٹ نے عراقیوں کے نزدیک ایرانی کرنسی کا اعتبار کھو دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…