پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کیا لسانی فسادات کرنا چاہتے ہیں؟کراچی میں ہنگامہ کیوں کرایا؟ چیف جسٹس نے میئر کراچی وسیم اختر کی کلاس لے ڈالی

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان کوارٹرز آپریشن کے معاملے پر میئر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ گزشتہ روز کراچی میں ہنگامہ کیوں کرایا؟ بڑے بڑے لیڈر پہنچے ہوئے تھے، خدا کا خوف کریں، کیا لسانی فسادات کرانا چاہتے ہیں؟ جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پاکستان کوارٹرز میں آپریشن کے معاملے پر

سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے عدالت میں موجود میئر کراچی وسیم اختر کو روسٹرم پر بلالیا۔چیف جسٹس نے میئر کراچی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ گزشتہ روز کراچی میں ہنگامہ کیوں کرایا؟ بڑے بڑے لیڈر پہنچے ہوئے تھے، شورو غوغا مچایا ہوا تھا، پاکستان کوآرٹرز میں آپریشن کسی مہاجر، سندھی، پنجابی یا کسی اور کے خلاف نہیں تھا،خدا کا خوف کریں، کیا لسانی فسادات کرانا چاہتے ہیں؟ اب ختم کریں اور دفن کریں اس لسانیت کو، یہاں کوئی مہاجر اور پنجابی نہیں، سب پاکستانی ہیں، مت کریں ایسی باتیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ آپ کے بڑے بڑے لیڈر آگئے ٗیہ کیا طریقہ ہے؟ آپ مجھے بتاتے تو یہ مسئلہ آسانی سے حل نہیں ہوسکتا تھا؟ کوئی غیرقانونی طور پر مقیم ہے تو کیا اسے چھوڑ دیا جائے؟ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ان کا کوئی حل نکالاجاتا،آپ کا کام بھی انصاف کرناہے، اس طرح تو پارکوں پر قبضہ کرکے مکانات بنا دیئے جائیں گے ٗبتائیں آپ نے عدالتی حکم پر عمل کیا ؟چیف جسٹس نے میئر کراچی وسیم اختر سے مکالمہ کیا کہ مجھے نالے دکھانے لے گئے تھے، کہا تھا کہ صاف ہوجائیں گے، کیا صاف ہوئے؟ یہ گندگی کراچی پربدنما داغ ہے۔میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پارکوں سے تجاوزات ختم کردیئے اور غیر قانونی شادی ہالز گرادیئے، کارروائی کررہے ہیں اور کنٹرول اب میرے پاس ہے،کام ہورہا ہے۔اس موقع پر

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ جہانگیرپارک کے دونوں اطراف آج بھی تجاوزات ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ صدر کا علاقہ آپ نے ٹرانسپورٹ مافیا کو دے دیا ہے،پورے علاقے کا برا حال ہے، اس پر وسیم اختر نے کہا کہ وہ کنٹونمنٹ کا علاقہ ہے، میں کارروائی نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگرقانون نہیں ہوگا توطاقتور کی حکومت ہوگی، کون لوگ ہیں

جنہوں نے قانون کو توڑا ہے اورخلاف ورزی کی ہے؟ قانون کی بالادستی نہیں ہوگی توترقی کا کوئی راستہ نہیں۔میئر کراچی نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ میرے پاس اختیارات نہیں، صرف پولیس تعاون کررہی ہے۔اس پر معزز چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب قبضہ ختم کراناچاہتے ہیں تو آپ لوگ انسانی ڈھال بنالیتے ہیں، ایسا حل نکالنا ہوگا کہ غریب کو بھی نقصان نہ ہو۔واضح رہے

کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں واقع پاکستان کوارٹرز کو خالی کرانے کیلئے پولیس علاقے میں پہنچی تو رہائشیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔حالات کشیدہ ہونے پر گورنر سندھ نے چیف جسٹس پاکستان سے رابطہ کیا جس پر جسٹس ثاقب نثار نے آپریشن تین ماہ کیلئے مؤخر کرنے کی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…