پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمد ،دیکھنے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی،حیر ت انگیزانکشافات

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

حب ( آئی این پی ) بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے علاقے گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمدکرلی گئی ہے۔مورتی گڈانی کے ماہی گیروں کے جال میں پھنس گئی تھی جس کے بعد ماہی گیروں نے مورتی کو گڈانی کسٹمز کے حکام کے حوالے کر دیا ،مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

گزشتہ روز بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی کے ساحل پر مقامی ماہی گیروں کے جال میں ایک پراسرار مورتی نما مجسمہ پھنس گیا،5 کلو وزنی اس مورتی کی بر آمدگی کی خبر جنگل کے آگ کی طرح شہر بھر میں پھیل گئی جس کے بعد اسے دیکھنے کے لیے حب،کراچی اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گڈانی کے ساحل پر پہنچی۔مورتی دیکھنے کے لیے آنیوالے افراد اس مورتی نما مجسمے کو کسی ہندو مہاراج کی شخصیت سے تعبیر کر رہے ہیں ،مگر اس پر کسی بھی قسم کی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی،لوگوں نے مورتی کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کی تجاویز دیں ہیں تاکہ وہ اس مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے کوئی حتمی بات کہہ سکیں۔دوسری جانب مورتی تاحال گڈانی کسٹم کے حکام کے پاس ہے جس کی حوالگی کے لیے گڈانی پولیس بھی کافی متحرک نظر آتی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اس کی حوالگی کا فیصلہ آج کر لیا جائے گا۔ بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے علاقے گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمدکرلی گئی ہے۔مورتی گڈانی کے ماہی گیروں کے جال میں پھنس گئی تھی جس کے بعد ماہی گیروں نے مورتی کو گڈانی کسٹمز کے حکام کے حوالے کر دیا ،مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔گزشتہ روز بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی کے ساحل پر مقامی ماہی گیروں کے جال میں ایک پراسرار مورتی نما مجسمہ پھنس گیا

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…