پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمد ،دیکھنے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی،حیر ت انگیزانکشافات

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

حب ( آئی این پی ) بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے علاقے گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمدکرلی گئی ہے۔مورتی گڈانی کے ماہی گیروں کے جال میں پھنس گئی تھی جس کے بعد ماہی گیروں نے مورتی کو گڈانی کسٹمز کے حکام کے حوالے کر دیا ،مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

گزشتہ روز بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی کے ساحل پر مقامی ماہی گیروں کے جال میں ایک پراسرار مورتی نما مجسمہ پھنس گیا،5 کلو وزنی اس مورتی کی بر آمدگی کی خبر جنگل کے آگ کی طرح شہر بھر میں پھیل گئی جس کے بعد اسے دیکھنے کے لیے حب،کراچی اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گڈانی کے ساحل پر پہنچی۔مورتی دیکھنے کے لیے آنیوالے افراد اس مورتی نما مجسمے کو کسی ہندو مہاراج کی شخصیت سے تعبیر کر رہے ہیں ،مگر اس پر کسی بھی قسم کی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی،لوگوں نے مورتی کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کی تجاویز دیں ہیں تاکہ وہ اس مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے کوئی حتمی بات کہہ سکیں۔دوسری جانب مورتی تاحال گڈانی کسٹم کے حکام کے پاس ہے جس کی حوالگی کے لیے گڈانی پولیس بھی کافی متحرک نظر آتی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اس کی حوالگی کا فیصلہ آج کر لیا جائے گا۔ بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے علاقے گڈانی کے ساحل سے پراسرار مورتی بر آمدکرلی گئی ہے۔مورتی گڈانی کے ماہی گیروں کے جال میں پھنس گئی تھی جس کے بعد ماہی گیروں نے مورتی کو گڈانی کسٹمز کے حکام کے حوالے کر دیا ،مورتی کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔گزشتہ روز بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی کے ساحل پر مقامی ماہی گیروں کے جال میں ایک پراسرار مورتی نما مجسمہ پھنس گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…