پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سابق لیگی سینیٹر کے فارم ہاؤس پر چھاپہ، کروڑوں روپے مالیت کی کیا غیر قانونی چیز برآمد ہوئی؟ حکام چکرا کر رہ گئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر سیف الرحمان کے فارم ہاؤس پر پولیس اور کسٹم حکام نے چھاپہ مار کر تین غیر قانونی گاڑیاں برآمد کر لیں۔ ان گاڑیوں کی مالیت 7 کروڑ بتائی جا رہی ہے۔ اس طرح لیگی رہنما کے فارم سے برآمد ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے، واضح رہے کہ ان غیر قانونی گاڑیوں کی ملکیت کا دعوی قطری شہزادے حماد بن جاسم نے کیا تھا۔ گزشتہ ماہ سامنے آنے والی خبر کے مطابق پاکستان میں قطری سفارتخانے نے

سابق چیئر مین احتساب سیل و سابق سینیٹرسیف الرحمان کی ملکیتی ’’ریڈکو ٹیکسٹائل مل‘‘میں قائم’’ویئر ہاؤس‘‘ پر چھاپے کے دوران پکڑی گئی بیش قیمت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ملکیت کی ذمہ داری قبول کر لی تھی جبکہ کسٹم حکام نے پکڑی گئی تمام گاڑیاں کسٹم انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر اسلام آباد منتقل کر دی تھیں اور سیف الرحمن کی کمپنی کے ایڈمن منیجر نے گاڑیوں کے ثبوت فراہم کرنے کے لئے مہلت طلب کی تھی، اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں واقع قطری سفارتخانے نے روات کے قریب ریڈکو ٹیکسٹائل مل میں قائم ویئر ہاؤس پر کسٹم انٹیلی جنس کے چھاپے کے دوران پکڑی گئی21لگژری نان کسٹم پیڈگاڑیوں کی ملکیت کی ذمہ داری قبول ہے قطری سفارتخانے کی جانب سے گاڑیوں کے ملکیتی کاغذات کے ہمراہ تصدیق کے لئے لکھے گئے لیٹر میں کہا گیا تھا کہ تمام گاڑیاں قانونی تقاضے پورے کر کے پاکستان منگوائی گئی تھیں یہ گاڑیاں قطر کے سابق وزیر اعظم شیخ حماد بن جاسم جابر التھانی کی ملکیت ہیں اور یہ شکار کی غرض سے منگواکر سابق سینیٹر سیف الرحمان کے کراچی،لاہور اور اسلام آباد میں واقع ویئرہاؤس میں کھڑی کی گئی تھیں تاہم قطری سفارتخانے نے اپنے لیٹر میں کسی قسم کی قانونی ذمہ داری سے انکار کر دیا تھا ، ان نان کسٹم پیڈ21لگژری گاڑیوں کی مجموعی مالیت 35 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے ذرائع کے مطابق بعض گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ تھیں جبکہ بعض پرقطر کے سفارتخانے کی نمبر پلیٹ آویزاں تھی مذکورہ مل طویل عرصہ سے غیر فعال ہونے کی وجہ سے بند تھی تاہم چھاپہ مار ٹیم نے مل کے تالے توڑ کرتمام گاڑیاں ضبط کر لی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…