جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا سیلاب آگیا، سردی میں لوگ کس چیز کیلئے مارے مارے پھرنے لگے؟

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن ) روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھنے کے باعث استعمال شدہ کپڑے اور جوتے بھی عوام کی دسترس سے باہر جانے لگے ہیں۔ گزشتہ چندہفتوں میں ڈالرکی قیمت میں اضافے کے باعث لنڈابازارمیں فروخت ہونیوالے پرانے کپڑوں اورجوتوں کی قیمت میں بھی 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔

لاہورمیں نولکھا چوک کے قریب اور ریلوے اسٹیشن کے قریب لنڈا بازاروں میں پرانے جوتوں اورکپڑوں کے ساتھ ساتھ چینی ساختہ جوتے بھی فروخت ہوتے ہیں جہاں دکانداروں نے ان جوتوں کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔بیرون ملک سے پرانے اوراستعمال شدہ جوتے منگوانے والے تاجر وں کا کہنا تھا کہ جوتوں کا جوکارٹن پہلے ایک ہزارڈالرکا تھا وہ اب 14 سو ڈالرمیں مل رہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ نقل وحمل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں ، لنڈا بازار میں استعمال شدہ جوتا جس کی قیمت پہلے 500 روپے تھی وہ اب 700 روپے میں مل رہا ہے ، اسی طرح استعمال شدہ کپڑوں کا بھی یہی حال ہے ، اس کاروبار سے جڑے دکانداروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی ان کا سیزن شروع ہوجاتا ہے لیکن ڈالرکی قیمت بڑھنے سے اب پرانے اوراستعمال شدہ جوتوں ، کپڑوں کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں جس سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا، لوگ اتنی قیمت میں پرانی چیزیں خریدنے کی بجائے مقامی طور پر تیارکردہ مقامی جوتے اورکپڑے خرید لیتے ہیں۔لنڈابازارمیں خریداری کے لیے آنیوالی خواتین نے بتایا کہ وہ اتوارکے روز یہ سوچ کریہاں خریداری کرنے آئی تھیں کہ یہاں سے سستے جوتے اورکپڑے مل جائیں گے لیکن یہاں توپرانی چیزوں کی قیمتیں بھی اس قدرزیادہ ہیں کہ اتنی قیمت میں نئی چیزیں خریدی جاسکتی ہیں، پرانے کپڑوں میں عام طورپر سویٹر، جرسیاں ، گرم پتلون ، قمیض، پاجامے وغیرہ خریدے جاتے ہیں،

ایک صاف اوراچھی کوالٹی کی استعمال شدہ مردانہ شرٹ 600 روپے سے کم میں دستیاب نہیں ہے ، اسی طرح پتلون کی قیمت بھی 500 روپے سے ایک ہزار روپے تک ہیں ، تاہم بہت زیادہ استعمال شدہ پتلون بھی 300 روپے میں بھی مل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…