اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

شہریار آفریدی پھر سب پر بازی لے گئے ، تھانے پر اچانک چھاپہ آپکی اولاد نہیں ؟ بچوں کو پکڑنے پر ایس ایچ او کی کھینچائی،دھماکہ خیز حکم جاری

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ کا رورل سرکل کے تھانہ کورال میں چھاپہ۔موٹر سائیکل چوری کے الزامات پر نوعمر بچوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی۔گزشتہ روز وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے اسلام آباد کے پولیسں اسٹیشن کورال میں اچانک چھاپے کے دوران حوالات میں قیدیوں سے ملاقات کی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کے تھانہ آمد کی اطلاع گردونواح میں تیزی سے پھیل گئی۔پولیس نے اس موقع پر داد رسی کے لئے آنے والوں کا داخلہ بند کردیا۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے ایس ایچ او کورال انسپکٹر قاسم نیازی کی سرزنش کرتے ہوئے غیر قانونی حراست میں رکھے گئے مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سوال جواب کئے۔وزیر مملکت برائے داخلہ کے سامنے پولیس انسپکٹر ٹھوس شواہد نہ رکھ سکے۔جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے حوالات میں غیر قانونی حراست میں رکھے بچوں کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے حکم دیا ملزم کی گرفتاری کے بعد قانون کے مطابق اسی عدالت میں پیش کریں۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ چار پانچ دن اس کی گرفتاری ظاہر نہ کریں۔ایس ایچ او کورال کی سرزنش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا آپ کی اولاد نہیں ہے ہم کس طرح بچوں کو اس طرح رکھ سکتے ہیں۔ہم نے لوگوں کی اصلاح کرنی ہے۔پولیس اسٹیشن لوگوں کی اصلاح کے لئے بنائے گئے ہیں۔وزیر مملکت نے مقدمات درج کئے بغیر غیر قانونی حراست میں رکھے شہریوں کے مسائل سنے اور ان کو فوری دور کرنے کا حکم دیا۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے سٹاف افسر کو ان کے مسائل حل ہونے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات کی۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے پولیس سے ایک گھنٹے میں غیر قانونی حراست میں رکھیں شہریوں کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

پولیس کے مطابق بچے چوری کے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔یہ پہلے سے چالان یافتہ ہے۔جبکہ بچوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے انہیں کسی پولیس اسٹیشن میں بند نہیں کیا گیا۔انہیں غیر قانونی طور پر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…