پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

جب ایل ایل بی کررہا تھا تو 100روپے والد اور 70روپےوالدہ دیتی تھیں، پھر یہ رقم کس چیز پر خرچ کرتا تھا؟چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے دورطالب علمی کا دلچسپ واقعہ سنا دیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاہتے ہیں والد نہ والدہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو،ہم بچے کوملک سے باہرجانے کی اجازت نہیں دے سکتے، والد پاکستان میں رہیں توبچہ والد کودے دیتے ہیں، بظاہرلگ رہا ہے بچے کوبدلہ اتارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم بچے کوملک سے باہرجانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ بچے کی ماں کوہراساں کرنے کے لیے 10 مقدمات دائرکیے گئے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسی وجہ سے بچے کووالد سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بظاہرلگ رہا ہے بچے کوبدلہ اتارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔بچے کے والد کے وکیل نے کہا کہ ہم 3 لاکھ روپے ماہانہ بچے کودینے کوتیار ہیں، ماں کی جانب سے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 5لاکھ روپے توبڑی رقم ہے، ایل ایل بی کر رہا تھا تو 100 روپے والد اور70 روپے والدہ دیتی تھیں، ملنے والی رقم میں سے پٹرول ڈالواتا تھا۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بچے کا والد اور والدہ دونوں کو پیارکا حق ہے یہ بچہ ہے کوئی پراپرٹی نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ چاہتے ہیں والد نہ والدہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بچے کی عمر 10سال سے زیادہ ہے، آپ چاہتے ہیں کہ والد پاکستان میں رہیں توبچہ والد کودے دیتے ہیں۔انہوں نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوملنے کا حق دے دیتے ہیں۔بعدازاں سپریم کورٹ نے بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…