پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جب ایل ایل بی کررہا تھا تو 100روپے والد اور 70روپےوالدہ دیتی تھیں، پھر یہ رقم کس چیز پر خرچ کرتا تھا؟چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے دورطالب علمی کا دلچسپ واقعہ سنا دیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاہتے ہیں والد نہ والدہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو،ہم بچے کوملک سے باہرجانے کی اجازت نہیں دے سکتے، والد پاکستان میں رہیں توبچہ والد کودے دیتے ہیں، بظاہرلگ رہا ہے بچے کوبدلہ اتارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم بچے کوملک سے باہرجانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ بچے کی ماں کوہراساں کرنے کے لیے 10 مقدمات دائرکیے گئے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسی وجہ سے بچے کووالد سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بظاہرلگ رہا ہے بچے کوبدلہ اتارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔بچے کے والد کے وکیل نے کہا کہ ہم 3 لاکھ روپے ماہانہ بچے کودینے کوتیار ہیں، ماں کی جانب سے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 5لاکھ روپے توبڑی رقم ہے، ایل ایل بی کر رہا تھا تو 100 روپے والد اور70 روپے والدہ دیتی تھیں، ملنے والی رقم میں سے پٹرول ڈالواتا تھا۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بچے کا والد اور والدہ دونوں کو پیارکا حق ہے یہ بچہ ہے کوئی پراپرٹی نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ چاہتے ہیں والد نہ والدہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بچے کی عمر 10سال سے زیادہ ہے، آپ چاہتے ہیں کہ والد پاکستان میں رہیں توبچہ والد کودے دیتے ہیں۔انہوں نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوملنے کا حق دے دیتے ہیں۔بعدازاں سپریم کورٹ نے بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…