جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا حکومت کو مہنگا پڑ گیا، اوگرا نے کتنے فیصد بڑھانے کی سفارش کی اور حکومت نے کتنا بڑا اضافہ کیا؟ افسوسناک انکشافات،عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) سندھ ہائی کورٹ میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سی این جی اسٹیشن مالکان کی درخواست کی سماعت ،عدالت نے اوگرا اور دیگر فریقین کو جواب کیلئے 26 نومبر تک مہلت دے دی ۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی عدالت نے اوگرا کے وکیل کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اوگرا اور دیگر فریقین کو جواب کیلئے 26 نومبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ،

بیرسٹر محسن شہوانی کا کہنا تھا کہ پیٹرول درآمد جبکہ گیس تو سندھ خود پیدا کرتا ہے۔سی این جی نرخ بڑھانے سے متعلق اوگرا کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔اوگرا نے سوئی سدرن گیس کی قیمت 17 فیصد بڑھانے کی سفارش کی,اوگرا نے سوئی نادرن گیس کی نرخ 30 فیصد بڑھانے کی سفارش کی۔وفاقی حکومت نے اوگرا کی سفارش کے برخلاف 40 فیصد یکساں نرخ بڑھا دیے۔دونوں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نرخ یکساں بڑھانا خلاف قانون ہے۔دونوں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے خسارہ میں واضح فرق ہے۔اوگرا قیمت طے کرنے سے متعلق آزاد ادارہ ہے۔وفاقی حکومت اوگرا کو صرف پالیسی دینے کا مجاز ہے۔وفاقی حکومت اوگرا کے طے کردہ نرخ بڑھانے یا کم کرنے کی مجاز نہیں۔قیمتیں پیٹرول سے تجاوز کرنے پر سی این جی سیکٹر تباہ ہو جائے گا۔ویسے ہی ہفتے میں سی این جی تین دن دستیاب نہیں ہوتی,اوگرا کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے,درخواست پر حتمی فیصلے تک زائد نرخوں کی وصولی روکی جائے,درخواست میں سیکرٹری وزرات پیٹرولیم, چئیرمین اوگرا کو فریق بنایا گیا ہے ،ایم ڈی سوئی سدرن گیس و دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے  سندھ ہائی کورٹ میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سی این جی اسٹیشن مالکان کی درخواست کی سماعت ،عدالت نے اوگرا اور دیگر فریقین کو جواب کیلئے 26 نومبر تک مہلت دے دی ۔ بیرسٹر محسن شہوانی کا کہنا تھا کہ پیٹرول درآمد جبکہ گیس تو سندھ خود پیدا کرتا ہے۔سی این جی نرخ بڑھانے سے متعلق اوگرا کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…