پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شہباز شریف کی پارلیمنٹ میں تقریر توہین عدالت ۔۔۔۔، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ایسی بات کہہ دی جسے جان کر لیگی حیران رہ جائیں گے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی بدھ کے روز پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر آرٹیکل 204کے تحت توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ شہباز شریف کا اپنے مقدمات پر پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے اگر پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے سزا اور جزا کا تعین ہونے لگا تو ملک کا نظام انصاف رک جائے گا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی قانون کے مطابق ہی چلنی چاہیئے۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

وفاقی وزیر قانون نے کہا ہے کہ کسی بھی زیر سماعت مقدمے کی کارروائی کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا جبکہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے وہ کسی بھی وقت ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نے اپنی تقریر کے آغاز میں تو کہا تھا کہ نیب کے مقدمے کے میرٹ پر بات نہیں کریں گے لیکن بعد ازاں ان کی 95فیصد تقریر مقدمے کے تفتیش کے حوالے سے تھے۔ قومی اسمبلی کے رول31اے کے تحت چونکہ زیر سماعت مقدمے پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔ اس لئے شہباز شریف کی تقریر آرٹیکل204کے تحت توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ کیونکہ جو باتیں انہوں نے کیں ایک تو یہ مناسب فورم نہیں ہے دوسرا ن کی کیس کے حوالے سے بات کا جواب دینے کے لئے نیب کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 36کے مطابق چیئر مین نیب یا کسی نیب افسر کو پارلیمنٹ میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے ۔ وفاقی حکومت یا وزارت قانون ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اطمینان رکھیں ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ تاہم شہباز شریف کی گرفتاری کے باعث ترکی، چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کی بات قیاس آرائی پر مبنی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ ریاستوں کے تعلقات شخصیات سے بالا تر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…