منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں26فیصد سے زائد کمی ، فوری اصلاحی اقدامات نہ اُٹھائے گئے تو کیا ہوگا؟ انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( این این آئی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرتی جا رہی ہے کیونکہ پچھلے ایک سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 26فیصد سے زائد کمی واقع ہو چکی ہے جو باعث تشویش ہے لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ روپے کی قدر کو گرنے سے روکنے کیلئے ٹھوس اصلاحی اقدامات اٹھائے کیونکہ اس سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے

جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ عوام مہنگائی تلے دبتے جا رہے ہیں۔احمد حسن مغل نے کہا کہ اکتوبر 2017میں ایک ڈالر 105روپے کا تھا جبکہ اکتوبر 2018میں ایک ڈالر 133روپے کا ہو گیا ہے جس سے تاجر برادری میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ اس سے نجی شعبے کو اپنے کاروباری منصوبے بنانے اور مستقبل کے اندازے لگانے میں شدید مشکل درپیش آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعتی شعبہ مختلف مصنوعات تیار کرنے کیلئے زیادہ تر خام مال باہر سے درآمد کرتا ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے صنعتی شعبے کیلئے درآمداتی خام مال مہنگا ہوتا جا رہا ہے جس سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مزید مہنگی ہوں گی اور برآمدات میں کمی واقع ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر گرنے سے بجلی بھی بہت مہنگی ہو جائے گی کیونکہ پاکستان زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہو گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے پاکستان کے غیر ملکی قرضے میں بھی کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں ایک روپیہ گرنے سے بیرونی قرضہ 60ارب روپے بڑھ جا تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال سے نجی شعبے کے تمام بزنس پلانز اور مستقبل کے اندازے بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ کاروباری برادری کو

طویل المدت کاروباری منصوبے تشکیل دینے اور سرمایہ کاری کیلئے مستحکم کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 37ارب ڈالر سے تجاویز کر گیا ہے جبکہ خسارے کو کم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمدات کو تیزی سے فورغ دینا ہے لیکن روپے کی گرتی ہوئی قدر سے ان مقاصد کا حصول مشکل ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ

موجودہ صورت حال میں صنعتی شعبے کو یا تو اپنی صنعتوں کو بند کرنا ہو گا یا اپنی مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھانا ہو گا۔تاہم اس سے ہماری مصنوعات مہنگی ہونے سے عوام کیلئے مہنگائی بڑھے گی اور برآمدات میں کمی ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانے اور معیشت کو مزید کمزور ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور معیشت کی بحالی کیلئے نجی شعبے کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…