پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ڈھائی مرلے کا گھراورکریم ٹیکسی چلا کر گزارہ کرنیوالی معروف شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب کو بجلی کا اتنا بل بھجوادیا گیا کہ جان کر عمران خان کو بھی شرم آجائے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف تو ملک میں اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف عام عوام نا انصافی اور مہنگائی کے ہاتھوں بری طرح پس رہے ہیں ، ایسے میںآمریت کے خلاف ڈٹ جانیوالے معروف شاعرحبیب جالب کی صاحبزادی طاہر حبیب جالب بھی واپڈا والوں کی ’مہربانیوں‘کا شکار ہو گئی ہیں۔ طاہر حبیب جالب نے اپنےفیس بک اکائونٹ پر

اپنی ایک پوسٹ میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میں اپنے ڈھائی مرلے کے گھر کے بل کا احوال بتایا۔ انہوں نے لکھا ”انتہائی پریشانی کا مقام ہے کہ میرا بجلی کا بل پچھلے دو مہینوں سے بہت زیادہ آ رہا ہے دو ماہ پہلے 63253 روپے بل آگیا اقساط کروائیں 22326 ہو گیا۔ اس ماہ جبکہ موسم پچھلے ماہ سے ہی بہت بدل چکا ہے پھر بھی 31267 آیا ہے پچھلے بقایا جات ملا کر اب موجودہ بل 78527 واجب الادا ہے۔میں اس وقت تقریباً اڑھائی مرلہ کے پورشن میں رہائش پذیر ہوں ، جہاں نارملی نا تو واشنگ مشین چلتی ہے نا ہی زیادہ استری۔ اے سی تو ویسے ہی چلاتے ڈر لگتا ہے سو بند رہتا ہے بس دیوار پر لگا ہے اور اپنے دل کو تسلی دی ہے کہ اے سی ہے ۔ میرے خیال میں اتنا بل بھیجنا بہت زیادتی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں خود اپنا روزگار ’’کریم‘‘چلا کر مہیا کرتی ہوں۔ کہاں سے اتنا بل ادا کروں جو مزید قسطیں کروانے کے بعد ابھی بھی 27000 ہے مگر اگلی بار کے لیے پھر منہ کھولے ہوئے ہے۔میٹر چیک کرنے کی بھی درخواست دی ہے۔ میرے ساتھ یہ زیادتی پہلے بھی ہو چکی ہے کہ میرے میٹر میں کسی نے تاریں لگا کر میرے میٹر سے بجلی چوری کی اور مجھے یہی لگتا ہے کہ اب بھی بجلی چوری ہوئی ہے۔ آج قسطیں کروانے کے دوران جتنا عذاب برداشت کیا ہے بیان سے باہر ہے منت سماجت کر کر کے حالت پتلی ہو گئی ہے پھر بھی بل 27000 ، غریب آدمی کہاں جائے کیسا دور ہے کہ میرے جیسے سفید پوش لوگوں کا بھرم بھی جارہا ہے۔کہاں جاؤں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…