بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

استعفے واپس لینے ہیں یا نہیں لینے ہیں؟ تحریک انصاف کا کیا رہا فیصلہ؟ پڑھنےکیليئےکلک کریں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی: سیاسی جرگے کی درخواست پرپاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت میں قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں سے استعفے واپس لینے کے حوالے سے مشاورت شروع ہوگئی ہے، آئندہ ہفتے تک عمران خان استعفے واپس لینے  یا نہ لینے کے حوالے سے اہم پالیسی بیان جاری کرسکتے ہیں۔

ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی تنازع کوحل کرانے کے لیے سیاسی جرگہ گزشتہ 48گھنٹوں سے پس پردہ کوششیں کررہاہے اور دونوں فریقین سے رابطے میں ہے، سیاسی جرگے کے سربراہ سراج الحق نے تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ کرکے انھیں دوبارہ درخواست کی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت استعفے کے معاملے پر فوری نظر ثانی کرے کیونکہ اگر وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے باہر ہوجائیں گے تو سیاسی سطح پراس کا نقصان صرف پی ٹی آئی کو ہوگا اور پھر الیکشن کمیشن کی تشکیل نواور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی سفارشات پرکس طرح مشاورت ہوگی؟

قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشیدشاہ نے بھی اسلام آبادمیں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران انھیں آگاہ کیاکہ وہ عمران خان سے بات کریں اورپی ٹی آئی استعفوں کے معاملے پراپنی حکمت عملی کوتبدیل کرے، حکومتی حلقوں نے سیاسی جرگے کو آگاہ کردیا ہے کہ مذاکراتی عمل مکمل ہونے تک پی ٹی آئی ارکان کے استعفے قبول نہیں کیے جائیں گے، وفاقی حکومت اورپی ٹی آئی کے درمیان پس پردہ رابطوں میں تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اوردونوں فریقین کے درمیان اسلام آبادمیں باضابطہ ملاقات ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں نے عمران خان سے درخواست کی ہے کہ قومی اسمبلی،پنجاب اور سندھ اسمبلی سے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کے معاملے پرنظرثانی کی جائے تاکہ آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کیلیے پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں قانون سازی میں اہم کردار ادا کرسکے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں استعفوں کے معاملے پر اندورنی اختلافات کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…