پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر نے ریئل اسٹیٹ کے 16 ہزار ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست تیارکرلی ،اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے ٹیکس نادہندہ گان کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے گزشتہ 2 سال کے دوران اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے 16 ہزار افراد کی نشاندہی کی گئی ہے

جنہوں نے ریئل اسٹیٹ کے بزنس میں سرمایہ کاری کی تاہم ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں جبکہ ان ہی میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) بھی نہیں ۔اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 2 سال کے دوران 80 ہزار لین دین ہوئیں جن کی کل مالیت ڈپٹی کمشنر ریٹ کے مطابق 8 سو ارب روپے ہے جبکہ اس کی حقیقی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔مذکورہ اعداد و شمار ایف بی آر کے ذیلی ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں جو 40 لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری کو ایف بی آر نظام میں ریکارڈ کر دیتا ہے۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے دستاویزات کو درست رکھنے کیلئے حکومت کی جانب سے اپنے بجٹ اعلان میں جولائی کے بعد سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کو ٹیکس ریٹرن سے مشروط کردیا تھا۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ادارہ ایسے افراد کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے پہلے ہی نوٹس جاری کر چکا ہے، جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایسے افراد جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں تاہم اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروارہے، انہیں بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اب تک ملک بھر میں 200 افراد کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے ایسے افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کے باوجود ابھی تک ان کے خلاف کارروائی سگنل نہیں ملا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…