جمعرات‬‮ ، 23 اپریل‬‮ 2026 

سب سے زیادہ بھوکے افراد کس جگہ پائے جاتے ہیں؟ دنیا میں کتنے کروڑ انسان بھوک اور کم خوراک کا شکار ہیں،بھوک سے متعلق تازہ ترین عالمی انڈیکس جاری، حیران کن تفصیلات

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)بھوک کے تازہ ترین عالمی انڈکس میں بتایاگیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوک اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تعداد بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے اور بڑھی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وفاقی جرمن دارالحکومت برلن میں عالمی سطح پر مجبورا فاقہ کشی، بھوک کے مسئلے اور کم خوراکی سے

متعلق اعداد و شمار پر مشتمل سال رواں کے لیے بھوک کے عالمی انڈکس (ڈبلیو ایچ آئی) 2018ء کی تفصیلات جاری کردی گئیں ،یہ انڈکس بین الاقوامی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں اور جرمنی سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم وَیلٹ ہْنگر ہِلفے (ورلڈ ہنگر ہیلپ) کی طرف سے ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔اس انڈکس کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر 821 ملین انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے یا تو کوئی خوراک دستیاب نہیں یا پھر وہ تشویش ناک حد تک کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان میں وہ 124 ملین( قریب ساڑھے بارہ کروڑ )انسان بھی شامل ہیں، جن کا بھوک کا مسئلہ انتہائی شدید ہو کر فاقہ کشی بن چکا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 2000ء سے لے کر آج تک گزشتہ 18 برسوں میں بھوک کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں جتنی بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اسے ان جنگوں اور مسلح تنازعات سے شدید خطرات لاحق ہیں، جو بڑی تعداد میں مختلف خطوں میں پائے جاتے ہیں اور جن میں سے بہت سے برس ہا برس سے حل نہیں ہو سکے۔ اس انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا کا بھوک اور کم خوراکی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ براعظم افریقہ کا زیریں صحارا کا علاقہ ہے۔گیرڈ میولر نے کہا کہ کرہ ارض اس بات کی اہلیت رکھتا ہے اور اتنے وسیع وسائل بھی دستیاب ہیں کہ دنیا کے تمام انسانوں کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے۔چانسلر میرکل کی کابینہ کے اس رکن نے

کہا کہ آج دنیا میں اتنی ترقی ہو چکی ہے کہ بھوک سے پاک دنیا کی منزل حاصل کی جا سکے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ بار بار اور جگہ جگہ پیدا ہونے والے پرتشدد اور ہلاکت خیز مسلح تنازعات بھوک کے خلاف کوششوں کے ثمرات ضائع کر دیتے ہیں۔یہ عالمی انڈکس دنیا کے 191 ممالک کی صورت حال اور وہاں بھوک کے مسئلے کی شدت کو سامنا رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بھوک اور فاقہ کشی کی صورت حال کے اسباب میں صرف جنگیں، مسلح تنازعات اور شدید نوعیت کی ماحولیاتی تبدیلیاں ہی شامل نہیں بلکہ اس عمل میں مہاجرت، ترک وطن اور زندہ رہنے کے لیے نقل مکانی بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف بحران زدہ خطوں میں یا ان خطوں سے تعلق رکھنے والے 68 ملین (پونے سات کروڑ سے زائد) انسان اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے اپنے آبائی علاقوں سے رخصت ہو کر داخلی یا بین الاقوامی مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دینے پر مجبور انسانوں کی یہ اتنی بڑی تعداد ہے، جتنی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…