اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) محمود الرشید کے بیٹے کے معاملے میں آئی جی پنجاب نےصوبائی وزیر کی بات ماننے سے انکار کیا جس کی پاداش میں انہیں اس کی سزا دی گئی، مریم اورنگزیب۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر محمود الرشید کے بیٹے کے معاملے پر آئی جی پنجاب نے ان کی ایک نہ مانی جس کی
پاداش میں انہیں سزا دی گئی اور عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ مریم اورنگزیب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو ضمنی الیکشن میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے تبدیل کیا گیا، ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ عمران خان کی ذاتی مجبوری تھی، آئی جی پنجاب نے اس معاملے میں وہ نہیں کیا جو اُن سے کہا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے پر خود کشی نہ کریں لیکن معافی ضرور مانگیں۔ ٹوائلٹ کی تصویر کھینچ کر بھیجنےکا کہنے والوں نے جو 50 دن میں ملک کا حال کیا اس کا جواب دیں، وزیراعظم صاحب صفائی نصف ایمان ہے لیکن جو آپ اور آپ کے وزراء اپنی زبان سے گند پھیلا رہے ہیں اس کی صفائی بھی ضروری ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کنٹینر کا جلد بندوبست کرلیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکمران چین کو ناراض اور سعودی عرب کی سبکی کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک کو متنازع بنا رہے ہیں جب کہ یہی حکمران بھارت اور امریکا کو خوش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور یہ سب اتفاق نہیں جو کیا جا رہا ہے۔ترجمان ن لیگ کا کہنا تھا کہ انوویشن کے نام پہ جو ٹوائلٹ کی صفائی ہو رہی ہے، یہ سوچی سمجھی سازش ہے جو دھرنا 2014 کی کڑی ہے، چیلنج کرتی ہوں کہ احتساب شروع کریں اور وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان اور علیم خان کی جائیدادوں کا بتائیں۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے
کہ اسٹاک ایکسچینج میں کس سرمایہ کار گروپ کو فائدہ پہنچایا گیا؟ بتایا جائے کہ کون سے سرمایہ کار گروپ کو مارکیٹ سے ڈالر اٹھانے کا کہا گیا جس کے بعد ڈالر کی قیمتیں بڑھنے کا اعلان کیا گیا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جھوٹ بول کر تماشے کرکے حکومت نہیں چلائی جا سکتی ہے لیکن عوام کو وزیراعظم کی کرسی اور کنٹینر میں زیادہ فرق نظر نہیں آیا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ آئی جی پنجاب
کے تبادلے کا چیف جسٹس نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ ریکوزیشن پر اجلاس نہ بلایا گیا تو اپوزیشن پارلیمنٹ کے باہر اجلاس کرے گی اور 90 ارکان کی ریکوزیشن اسپیکر کے پاس ہے لہذا فواد چوہدری کاپی لے لیں اور اجلاس بلائیں۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری پیپلز پارٹی، ق لیگ اور مشرف کی جڑوں میں بیٹھے جب کہ وہ ہمارے پاس بھی آنا چاہتے تھے لیکن ہماری پارٹی کا مزاج نہیں کہ فواد چوہدری جیسےلوگوں کو رکھیں۔



















































