بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

رات کو نیند نہ آنے کی وجہ یہ تو نہیں؟

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ کو رات کو سوتے وقت اکثر کروٹیں بدلنا پڑتی ہیں ؟ اگر ہاں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی ایک خوفناک وجہ ہو یا یوں کہہ لیں ایک کروڑ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جی ہاں آپ کا بستر ایک کروڑ ڈسٹ مائیٹس کا گھر ہوسکتا ہے جو کہ سننے میں کچھ زیادہ اچھا نہیں لگے مگر اچھی کبر یہ ہے کہ ان سے نجات کافی آسان ہے۔ یہ ننھے کیڑے کیوں جگائے رکھتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر آپ ڈسٹ مائیٹس سے الرجک ہوسکتے ہیں، اگر ایسا ہو تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ رات کو اچھی نیند کا حصول کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈسٹ مائیٹ الرجی کی علامات میں اکثر بار بار چھینکیں آنا، کھانسی، دوران نیند خرخراہٹ، سانس گھٹنا، پلکوں کا ورم، ناک بند ہونا، سینے میں کھچاﺅ، سانس لینے میں مشکل اور آنکھوں سے پانی بہنا قابل ذکر ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کوئی علامت جانی پہچانی لگ رہی ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے تصدیق کریں کیا واقعی آپ کو الرجی ہے۔ اگر آپ کو الرجی نہیں بھی ہو، تو بھی ڈسٹ مائیٹس کے نتیجے میں سانس لینے کے مسائل کا خطرہ اس وقت دوران نیند بڑھتا ہے جب آپ کو دمہ ہو۔ ان سے نجات کیسے ممکن ہے؟ اگر تو آپ کئی، کئی ماہ تک بستر کی چادر بدلنے کے عادی نہیں تو اب اس عادت کو بدل دیں، کیونکہ یہ چادر ہفتے میں ایک بار دھونی چاہئے۔ نیند کے دوران پسینہ، جسمانی تیل وغیرہ خارج ہوتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چادر پر تھوک، پیشاب اور فضلے وغیرہ کے آثار مل جاتے ہیں، اور یہ سب ڈسٹ مائیٹس کی نشوونما بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ ویسے بستر کی چادر کو ہر ہفتے دھونا ہی کافی نہیں، درست طریقے سے دھونا زیادہ ضروری ہے۔ یعنی بہت زیادہ گرم یا انتہائی ٹھنڈا ماحول ڈسٹ مائیٹس کو مار دیتا ہے، مگر چونکہ فریزر میں رکھنے سے پسینے اور جلد کے ذرات کو صاف نہیں کیا جاسکتا، تو گرم پانی سے ہی چادر کو دھونا چاہئے، تاہم ایسا کرنے سے پہلے چادر پر دیئے گئے لیبل پر ہدایات کو بھی ضرور دیکھیں۔ گزشتہ سال ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں اوسطاً ہر انسان سے 500 ملین خلیات کا اخراج ہوتا ہے جبکہ دیگر اجزاءبھی رات بھر بستر کی چادر پر جمع ہوتے رہتے ہیں جن میں سے ڈسٹ مائٹس انسانی مردہ خلیات کو کھانا پسند کرتے ہیں۔ اگر چادر کو ہر ہفتے نہ دھویا جائے تو آپ خود کو سنگین وائرس اور انفیکشن کے خطرے کی زد میں لارہے ہوتے ہیں۔ جن میں جلد یا زخم کا انفیکشن، پیشاب کی نالی کی سوزش، نمونیا اور دوران خون کا انفیکشن قابل ذکر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…