بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کم خوراکی سے بڑھتی عمر کے جسم پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ،طبی ماہرین

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

آسڑیلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) طبی ماہرین کے مطابق کم خوراکی سے بڑھتی عمر کے جسم پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلین یونیورسٹی میں کی جانے والی نئی تحقیق کے مطابق کم کھانا لمبی زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ کم کیلوریز والی خوراک خاص طور پر طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ تحقیقی مطالعے کی سربراہ ماہر حیاتیات ڈاکٹر مارگو کہتی ہیں کہ کم کھانا جسم کےخلیات کو نقصان، تباہی اور کینسر کے خطرے سے بچاتا ہے جبکہ صحت مند بڑھاپے

کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی مقدار میں کمی سےخلیات کی ری سائیکلنگ کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے دہی کھانے والے افراد بھی لمبی زندگی جیتے ہیں۔ دنیا کی معمر ترین خاتون ایما مورنو کا کہنا ہے کہ ان کی طویل العمری کا راز روز کچے انڈے کھانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ نوعمر تھیں تب انہیں خون کی کمی کا مرض اینیمیا لاحق ہوا جس کے لیے ڈاکٹرز نے انہیں تجویز کیا کہ وہ روزانہ کچا انڈہ کھائیں۔ اس کے بعد سے وہ اب تک اس عادت پر کاربند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…