بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

انسانی پسلیوں کے بارے میں چند دلچسپ حقائق

datetime 2  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پسلیاں ایک پنجرے کی طرح آپ کے دھڑ کو سینے کی ہڈی سے منسلک کرکے پھیپھڑوں، دل، تلی اور جگر کے بیشتر حصے کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ سینے کے گڑھے کی ساخت میں مدد فراہم کرتی ہیں، جو کہ سانس لینے میں معاونت کرتا ہے۔ پسلیاں ایک طرف تو تحفظ فراہم کرتی ہیں، دوسری دوسری جانب اگر وہ بری طرح ٹوٹ جائیں تو اعضاء

میں گھس کر جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہاں آپ پسلیوں کے بارے میں چند حیرت انگیز حقائق جان سکیں گے جن سے اکثر افراد واقف نہیں ہوتے۔ انسانی جِلد کے یہ دلچسپ حقائق جانتے ہیں پسلیاں بالٹی کے ہینڈل کی طرح کام کرتی ہیں پسلیاں سینے کو سانس لینے کے دوران پھیلنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، ان کے افعال کسی بالٹی کے ہینڈل کی طرح ہوتے ہیں جو کہ سانس لینے پر اوپر کی جانب سوئنگ کرتی ہے، جس سے سینے میں گڑھا پھیلتا ہے، یہ گڑھا پھیلنے سے سانس لینا آسان ہوتا ہے۔ تین اقسام کی پسلیاں انسانی ڈھانچے میں پسلیوں کے 12 جوڑے ہوتے ہیں (یعنی مجموعی طور پر 24 پسلیاں) جو کہ دھڑ کے اوپر سے نیچے کی جانب ہوتی ہیں۔ ایک سے 7 نمبر تک کی پسلیوں کو ‘حقیقی پسلیاں’ سمجھا جاتا ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی سے براہ راست سینے سے منسلک ہوتی ہیں، 8 سے 10 نمبر کی پسلیوں کو ‘مصنوعی پسلیاں’ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ براہ راست منسلک نہیں ہوتیں، مگر کرکری ہڈیاں سینے سے جڑی ہوتی ہیں، 11 اور 12 نمبر پسلیاں ‘تیرتی پسلیاں’ ہیں، کیونکہ وہ صرف کمر میں ریڑھ کی ہڈی سے منسلک ہوتی ہیں اور ان کا حجم بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ خواتین کی پسلیاں مردوں سے زیادہ؟ عیسائی مذہب میں ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ پسلیاں ہوتی ہیں، مگریہ درست نہیں۔ درحقیقت مردوں یا خواتین کی پسلیوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں، ہر ایک میں ہی 12 پسلیوں کا جوڑا ہوتا ہے۔

تاہم خواتین کی پسلیاں حجم میں مردوں کے مقابلے میں 10 فیصد چھوٹی ہوتی ہیں۔ مگر کچھ افراد میں زیادہ پسلیاں ہوسکتی ہیں بہت کم کیسز میں، جس کا صنف سے کچھ لینا دینا نہیں، کسی انسان میں پسلیوں کا ایک اضافی جوڑا یعنی 13 پیئر ہوسکتے ہیں، کسی گوریلا کی طرح، یہی وجہ ہے کہ ان اضافی پسلیوں کو گوریلا ریب کہا جاتا ہے۔ کھلاڑیوں میں پسلیاں ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ کشتی رانی، بیس بال

، ویٹ لفٹر، گولفرز، والی بال پلیئرز اور ڈانسرز وغیرہ میں پسلیوں کے فریکچر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ چھینک سے پسلی ٹوٹ سکتی ہے؟ ویسے تو پسلیاں ٹوٹنے کا خطرہ کسی حادثے جیسے سخت فٹ بال ٹکرا جانے یا گاڑی کے حادثے کی وجہ سے بڑھتا ہے، مگر کبھی کبھار پسلی کا فریکچر چھینک یا کھانسی سے بھی ہوجاتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پسلیوں سے منسلک سینے کے مسلز پر دباﺅ بڑھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…