ہفتہ‬‮ ، 02 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرے،آئی ایم ایف کو ڈکٹیشن دینے پر پاکستان کا شدید ردعمل سامنے آگیا، انتباہ کردیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اکتوبر 2018 ء کے وسط تک ملک میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوجائے گا‘ ہر ماہ دو ارب ڈالر ذخائر میں خرچ ہورہے ہیں‘ سابقہ حکومت کی وجہ سے 2300 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا‘ امریکہ ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرے۔ ہم مزدوروں کی تنخواہ کم نہیں کریں گے۔

اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہر ماہ دو ارب ڈالر ذخائر میں خرچ ہورہے ہیں ہم قوم کا پیسہ بچانا چاہتے ہیں سابقہ حکومت کی طرح شاہانہ اخراجات نہیں کریں گے‘ پنجاب کی سابق حکومت نے انتخابات جیتنے کیلئے 43 ارب کا خسارہ کیا سابق حکومت کے دور میں برآمدات کم ہوگئی تھیں ان کی ترجیح معیشت کی بحالی نہیں تھی۔ ہم نے غریب اور متوسط طبقے کی جیب پر ہاتھ نہیں ڈالا ،اکتوبر کے وسط تک غیر یقینی صورتحال ختم ہوجائے گی۔ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاری اور صنعت کو بڑھانا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ ہم (او جی ڈی سی ایل) کو نہیں بیچ رہے بڑے اداروں کی کوئی بھی چاہنے کے باوجود نجکاری نہیں کر سکتا۔ سابقہ حکومت نے پچھلے ایک سال میں گیس اور بجلی کے شعبے میں چھ سو ارب روپے کا خسارہ کیا ،اداروں کے سربراہ پروفیشنل لوگوں کو لگانا چاہیے ،ہم اس طرف کام کررہے ہیں۔ ہمیں اداروں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ ہم نے تمام اداروں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملکی خسارے کم کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ،سابق حکومت کی وجہ سے 2300 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہوا سابقہ حکومت اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں کچھ نہیں کر سکی۔ امریکہ کی آئی ایم ایف میں 14 فیصد شراکت دار موجود ہیں‘ امریکہ کو ہماری بجائے اپنے قرضوں کی فکر کرنی چاہیے ۔ ورکر ویلفیئر بورڈ مزدوروں کا چالیس ارب روپیہ کھا گیا ہے ،جب تک برآمدات کے شعبے کو مستحکم نہیں کیا جائے گا

ملک میں ترقی نہیں ہوگی ۔اسد عمر نے کہا کہ ہمارے ملک میں بجلی گیس خطے کے دیگر ممالک کی نسبت مہنگی تھیں ہم نے گیس کی قیمتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر کردیا ہے بجلی کی قیمت بھی جلد دیگر ممالک کے برابر اجائے گی ،ہم نے نجی شعبے پر بوجھ نہیں ڈالنا ،ہم مزدور کی تنخواہ کم نہیں کریں گے ،پچھلے پانچ برسوں میں ملک کو بہت نقصان پہنچایا گیا ہے ،اس وقت مشکل حالات ہیں لیکن ایسے نہیں ہیں کہ ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،ہم برآمدات کی صنعت کو بڑھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…