جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس جمع کرنیوالے اداروں میں اصلاحات ،انکی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے : ٹیکس ماہرین

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)حکومت کی جانب سے کڑے احتساب کا نعرہ اور کسی کو این آر او نہ دینے کا اعلان خوش آئند ہے ،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے غریب کو زندہ درگور کرنے کی بجائے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں میں اصلاحات اور ان کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے ۔سابق وزیر

خزانہ ضیاء حیدر رضوی،سابق صدر پاکستان ٹیکس بار ذوالفقار خان ، ٹیکس ماہرین عامر قدیر ، نعیم خان ، مامون نثار،ملک ہارون احمد، عائشہ قاضی ، افتخار قاضی، رانا آصف ، علی حسن رانا ،میاں عبدلغفار، خواجہ ریاض حسین، اجمل خان اور اے ایس جعفری نے ’’ ٹیکسیشن نظام ‘‘کے حوالے منعقدہ مذاکراے میں کہا کہ حکومت 100 روز کے پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنالے تو یہ اس کی بہت بڑی جیت ہو گی ۔سب سے پہلے اداروں اور منصوبوں کاآڈٹ کیا جاتا توحکومت کے لئے بیوروکریسی کو سمجھنا آسان مرحلہ ہوتا ۔حکومت کی جانب سے کڑے احتساب اور کسی کو این آر اونہ دینے کا واضح اعلان خوش آئند ہے۔ ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کئی دہائیوں سے صرف نعرے اوردعوے سنتے آرہے ہیں اب عوام نتائج چاہتے ہیں ۔ملک سے لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لانے کی فوری ا مید کرنا درست نہیں بلکہ ملکی معاشی اقتصادی ترقی کیلئے ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ۔ حکومتی ادارے جو سالانہ 600ارب روپے خسارہ کر رہے ہیں توجہ طلب ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…