منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

اوگرا کی پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کردی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے

مہینے کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سمری وزراتِ خزانہ کو موصول ہوچکی ہے۔ اوگرا کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری شرح ٹیکس اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے درآمدات کی ادائیگی کے اوسط پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ خزانہ 30 ستمبر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد نظر ثانی شدہ قیمتوں کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔ اوگرا حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ستمبر کے مہینے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کرنسی تبادلے کی شرح مستحکم رہی۔ سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے اور پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے، تاہم ان دونوں مصنوعات کے لیے 3 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 110 روپے، پیٹرول کی قیمت 97 روپے مٹی کے تیل کی قیمت 83 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 79 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر جائے گی۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2017 کے اوائل سے ہی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم اس دوران ان میں کمی بھی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 22 فیصد، پیٹرول پر 9.5 فیصد، مٹی کے تیل پر 6 فیصد، لائٹ ڈیزل پر ایک فیصد فی لیٹر پر جنرل سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اسی طرح پیڑولیم لیوی کی مد میں ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 8 روپے، پیٹرول پر 10 روپے، مٹی کے تیل پر 6 روپے اور لائٹ ڈیزل پر 3 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ملک میں سب سے زیادہ کھپت ہے اور یہی دونوں مصنوعات حکومتی آمدن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ کھپت 8 لاکھ ٹن ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 7 لاکھ ٹن پیٹرول خرچ کیا جاتا ہے، تاہم مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل مجموعی طور پر 10 ہزار ٹن ماہانہ فروخت کیا جاتا ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…