اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

قطری گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کرنے والے افسر کو گرفتا ر کرنے کا حکم ،دو نمبر کام کس دور حکومت میں کیا گیا؟حیران کن انکشاف

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(این این آئی)کسٹم عدالت نے سابق چیئرمین نیب سیف الرحمان کے ویئر ہاؤس سے برآمد ہونی والی قیمتی 20 ’نان کسٹم پیڈ گاڑیوں‘ کیس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر وقار حسین کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کسٹم عدالت راولپنڈی کے جج ارشد حسین بھٹہ

نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کراچی وقار حسین کے وارنٹ گرفتاری قیمتی نان کسٹم پیڈ قطری گاڑیوں سمیت 300 گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کرنے پر جاری کیے۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر وقار حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی میں پوسٹنگ کے دوران لینڈ کروزر، پراڈو، بی ایم ڈبلیو، مارک ایکس، ٹویوٹا سرف اور ڈبل کیبن گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کر کے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔تفتیشی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ ایکسائز آفیسر وقار حسین اس وقت حیدرآباد میں تعینات ہیں جس پر عدالت نے کسٹم آفیسر کو گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا۔تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایکسائز آفیسر وقار حسین سندھ حکومت کی ایک اہم شخصیت کا دست راست ہے اور تمام قیمتی گاڑیوں کی غیر قانونی رجسٹریشن پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہی کی گئیں۔واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل سابق چیئرمین نیب سیف الرحمان کے ویئر ہاؤس سے 20 قیمتی گاڑیاں برآمد ہوئی تھیں جو سابق قطری وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کیلئے غیر قانونی طور پر منگوائی گئیں تھیں۔ قطری شہزادے انہی گاڑیوں پر شکار کھیلنے کیلئے صحرائی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…