ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ کے ساحلی علاقوں میں آلودگی,مچھلی کی پیداوار میں 70 فیصد کمی

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے ساحلی علاقوں میں ما حولیاتی آلودگی ، ڈیپ سی فشنگ، تمر کی کٹائی اور ڈیلٹا میں پانی نہ ہونے کے باعث مچھلی کی پیداوار میں 70فیصد تک کمی ہونے کا انکشاف ہو ا ہے ،کئی اقسام کی مچھلیوں کی نسلیں مقامی پانیوں میں دستیاب ہی نہیں ہیں ،اس حوالے سے فشر فوک فورم کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی شاہ نے بتایاکہ مچھلیوں کی نسل کی تباہی کا باعث انڈسٹریل فشنگ

اور ڈیپ سی فشنگ ہے، دریاؤں میں پانی نہ ہونے کے باعث ڈیلٹا بھی سوکھ گئے ہیں جس کے باعث مچھلی کی نسل و افزائش میں کمی وا قع ہو گئی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بیوپاری کوریا ،ویتنام اور کمبوڈیا سے بی اور سی کلاس مچھلی منگوا رہے ہیں ۔انہوں نے بتایاکا سندھ کے ساحلی علاقوں میں مچھلی کی نسل و افزائش کو سب سے زیادہ نقصان ڈیپ سی فشنگ ٹرالرز اورممنوعہ جال کے باعث ہوا ہے ،چند روز قبل کورنگی انڈسٹریل ایریا اور لیاری ندی کے آلودہ پانی کے سمندر میں شامل ہونے کے باعث سینکڑوں مردہ مچھلیا ں ساحل پر آ گئی تھیں ،اس حوالے سے ماہرین نے بتایاکہ سمندر میں آلودہ پانی کے شامل ہونے کے بعد سمندر میں طغیانی کے باعث آلودگی بڑھ گئی تھی جو کہ مچھلیوں کی ہلاکت کا باعث بنی ،اس حوالے سے ذرائع نے بتایاکہ کورنگی کریک میں شہر کے مختلف علاقوں کا نہ صرف کچراڈالا جا رہا ہے بلکہ فیکٹریوں کا آلودہ پانی بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے جس کے باعث چھوٹی مچھلیوں کی نسل افزائش نہیں ہو پا رہی اور چھوٹی مچھلیوں کے نہ ہونے کے باعث بڑی مچھلیاں اب سمندر میں 22ناٹیکل میل تک نہیں ملتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…