منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ،آئندہ چھ مہینوں میں کیا ہوسکتاہے؟،اسٹیٹ بینک نے تشویشناک پیش گوئی کردی

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بیرونی شعبے کا دباو، مالیاتی شعبے کی کمزوریاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو آئندہ چھ مہینوں میں مالی استحکام پر خاصا اثر ڈال سکتا ہے،رواں سال2018 کی پہلی ششماہی کے دوران غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 7.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو 2008ء کی پہلی ششماہی کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔تاہم بینکوں کی بعد از ٹیکس آمدنی (year to date) میں 14.7 فیصد کمی آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے سال 2018ء کی پہلی ششماہی کے لیے بینکاری شعبے کا پہلا ششماہی کارکردگی جائزہ جاری کر دیا ہے۔ ششماہی کارکردگی جائزے میں بینکاری شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کے جامع جائزے کے ساتھ مالی شعبے کو درپیش اہم مسائل کو نمایاں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بینکاری شعبے نے کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سال 2018ء کی پہلی ششماہی میں بینکاری شعبے کی اثاثہ جاتی بنیاد (asset base) میں 4.7 فیصد توسیع (9.7 فیصد سال بسال) ہوئی۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اثاثوں کی نمو میں نجی شعبے کے قرضوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں چینی، توانائی اور سیمنٹ کے شعبوں کے ساتھ افراد (یعنی sole proprietorships) کو اہم قرض گیروں (borrowers) کی حیثیت حاصل رہی۔ ڈپازٹس میں معمولی کمی ہوئی لیکن پھر بھی یہ بینکوں کے لیے فنڈز کا اہم ذریعہ رہے۔زیر تبصرہ ششماہی کے دوران شعبہ بینکاری کے مجموعی خاکہ خطر (risk profile) میں کفایت سرمایہ(capital adequacy) کی مضبوطی اور اثاثہ جاتی معیار بڑھنے سے بہتری آئی ہے۔ شرح کفایت سرمایہ (CAR) مزید بہتری کے بعد 15.9 فیصد تک پہنچ گیا جو 11.275 فیصد کی کم از کم مطلوبہ ضوابطی سطح سے کافی اوپر ہے۔ غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 7.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے

جو 2008ء کی پہلی ششماہی کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔تاہم بینکوں کی بعد از ٹیکس آمدنی (year to date) میں 14.7 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجوہات میں غیر سودی آمدنی میں کمی، تموین (provision) کے یکبارگی اخراجات اور بلند انتظامی لاگت ہیں۔ رپورٹ میں 2018ء کی پہلی ششماہی میں معاشی و مالی حالات کے باارے میں توقعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اسٹیٹ بینک کے نظمی خطرے کے دوسرے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی شعبے کا دباو، مالیاتی شعبے کی کمزوریاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو ممکنہ طور پر آئندہ چھ مہینوں میں مالی استحکام پر خاصا اثر ڈال سکتا ہے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…