ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارتی سپریم کورٹ میں متنازعہ شناختی سسٹم کی درستی کی توثیق

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک )بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ ملکی بائیو میٹرک نظام کی قانونی طور پر درستی کی توثیق کر دی تاہم عدالت نے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے بینکنگ سے ٹیلیفون سروس تک پرائیویسی لازمی بنانے کو کہا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں بنیادی شناخت کے لیے حکومت ایک آئی ڈی کارڈ جاری کرتی ہے جوآدھار کے نام

سے معروف ہے۔ یہ ایک بائیومیٹرک کارڈ ہے۔ بھارت کی عدالت عالیہ میں یہ کیس اس سسٹم کے ناقدین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔اس سسٹم کے تحت ایک بلین بھارتی باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ ناقدین کو خدشات ہیں کہ یہ نظام ایک کڑی نگرانی کرنے والی سرکار کو جنم دے سکتا ہے اور عوام کے نجی کوائف تک پہنچنے میں کمپنیوں کا راستہ آسان ہو سکتا ہے۔پانچ جج صاحبان پر مشتمل پینل کی اکثریت نے فیصلہ سناتے ہوئے عوامی فلاحی اسکیموں کے لیے آدھار کے استعمال کو واضح کیا اور اسے غریب اور کم تر طبقے کو خود مختار بنانے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔ خیال رہے کہ آدھار شناختی کارڈ کے لیے آنکھوں کی پتلیوں کا سکین اور انگلیوں کے نشانات ایک ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ اس کارڈ کے ساتھ ہی گھر کا پتہ، فون نمبر، تاریخ پیدائش، ای میلز، بینک اکاؤنٹ اور پاسپورٹ وغیرہ جیسی ذاتی تفصیلات بھی درج ہوتی ہیں۔ یہ تمام تفصیلات حکومت کی متعلقہ ویب سائٹ پر دستیاب ہیں اور حکومت کا دعوی ہے کہ یہ پوری طرح سے محفوظ ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کا آدھار کے قانون میں ایسی شقیں شامل کی جانی چاہییں، جن سے ایسے افراد کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے جن کا ذاتی ڈیٹا لیک ہوا ہو۔رواں برس کے آغاز میں بھارتی سرکاری دفاتر سے بائیومیٹرک شناختی اسکیم کے تحت جمع کیے جانے والے عوام کے ذاتی ڈیٹا کی چوری اور اس کے فروخت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ آدھار کارڈ ابتدا سے ہی متنازعہ رہا ہے اور اس کے کئی پہلوؤں پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں۔حکومت آدھار کارڈ کو تمام سرکاری سکیموں سے مربوط کرنے کا ادارہ رکھتی ہے جس کے نفاذ کے بعد کوئی بھی سرکاری کام اس کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…