جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امسال متبادل نوبل انعام کے حقداران میں تین سعودی کارکن بھی شامل

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

کوپن ہیگن(انٹرنیشنل ڈیسک)اس سال کے رائٹ لائیولی ہْڈ ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ عرف عام میں متبادل نوبل انعام کہلانے والے اس ایوارڈ کے حقدار ٹھہرائے گئے افراد میں انسانی حقوق کے تین سرکردہ سعودی کارکن بھی شامل ہیں، جو جیلوں میں قید ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے جاری ایوارڈ انسانی حقوق کے ان تین سرکردہ لیکن زیر حراست

سعودی کارکنوں کے علاوہ مشترکہ طور پر لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے دو ایسے افراد کو بھی دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جو بدعنوانی کے خلاف بڑی ہمت سے اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ ایوارڈ دینے والی فاؤنڈیشن نے کوپن ہیگن میں اعلان کیا کہ 2018ء کے اس ایوارڈ کے ساتھ ایک ملین ڈینش کرونے کی نقد رقم (قریب ایک لاکھ چودہ ہزار امریکی ڈالر) بھی دی جائے گی اور امسالہ ایوارڈ سعودی عرب کے عبداللہ الحامد، محمد فہد القحطانی اور ولید ابوالخیر کو مشترکہ طور پر دیا جائے گا۔فاؤنڈیشن کے مطابق ان تینون افراد نے بڑی ہمت اور بصیرت کے ساتھ ایسی مسلسل کوششیں کیں، جن میں ان کی رہنمائی انسانی حقوق کے عالمگیر ضابطوں نے کی اور جن کی منزل سعودی عرب کے خود پسندانہ سیاسی نظام میں اصلاحات تھیں۔اس کے علاوہ سال رواں کے لیے یہی ایوارڈ مشترکہ طور پر لاطینی امریکی ملک گوئٹے مالا کی تَھیلما الدانا اور کولمبیا کے ایوان ویلاسکوئیزکو دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ یہ دونوں شخصیات اپنے اپنے ممالک میں بدعنوانی کے جرم میں سزاؤں کو یقینی بنانے کے لیے اور بااختیار طبقے کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال کو منظر عام پر لانے کے لیے بڑے جدید انداز میں انتھک کوششیں کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ یہی ایوارڈ مشترکہ طور پر تحفظ ماحول کے لیے سرگرم دو کارکنوں کو بھی دیا گیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق آسٹریلیا اور جبکہ دوسرے کا برکینا فاسو سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…