بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ٹریفک پولیس کاشہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ ،گاڑی کے چالان پر اب پانچ سو روپے کی بجائے کتنے ہزار روپے دینا ہونگے؟تشویشناک انکشاف

datetime 23  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) آئی جی پنجاب پولیس نے ٹریفک چالان فیس میں دو ہزار فیصد اضافے کی تجویز دے دی۔پنجاب پولیس نے ٹریفک بحالی کے نام پر شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بناتے ہوئے چالان فیس میں دو ہزار فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا، جس کے نتیجے میں اب گاڑی کے چالان پر پانچ سو روپے کی بجائے دس ہزار روپے ادا کرنے ہونگے لاہور شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کیلئے آئی جی پنجاب کی انوکھی منطق سامنے آگئی۔

ٹریفک قوانین کی پاسداری کیلئے چالان فیس میں ایک سے دو ہزار فیصد اضافے کی تجویز پیش کردی گئی۔ سی سی پی او لاہور کے نام لکھے گئے ایک خط میں آئی جی پنجاب محمد طاہر نے تجویز دی ہے کہ جرمانے کی شرح میں دو ہزار فیصد اضافہ ہی ٹریفک کی بحالی کا واحد علاج ہے محمد طاہر کے مطابق شہر کی سٹرکوں پر روزانہ اوسط 6 ہزار سے زائد مرتبہ قانون توڑا جاتا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی ہی حادثات، ٹریفک جام اور راستے بند ہونے کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں ٹریفک وارڈنز گاڑی اور جیپ چلانے والے قانون شکن افراد سے دو ہزار فیصد اضافی جرمانہ وصول کریں گے اور موٹرسائیکل سواروں سے ایک ہزار فیصد زیادہ جرمانہ وصول کیا جائے گا۔فیس میں اضافے کے بعد گاڑی اور جیپ چلانے والوں کو پانچ سو روپے کے بجائے دس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، جبکہ موٹرسائیکل سوار شہریوں کواشارے کی خلاف ورزی پر دو سو روپے کی بجائے دو ہزار روپے جمع کرانا ہونگے۔پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے جرمانے کی فیس میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کرلیا ہے، تاہم دیگر ماتحت افسران کی مشاورت کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔  آئی جی پنجاب پولیس نے ٹریفک چالان فیس میں دو ہزار فیصد اضافے کی تجویز دے دی۔پنجاب پولیس نے ٹریفک بحالی کے نام پر شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بناتے ہوئے چالان فیس میں دو ہزار فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…