اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

ہم پوری اسلامی دنیا میں ثالثی کرانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں لیکن ہمارے پاس پاکستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ بٹھانے کیلئے وقت نہیں‘ کیوں؟ریاست اور سیاسی جماعتوں نے مذہبی اختلافات کو علماء کرام اور عوام پر کیوں چھوڑ رکھا ہے‘ حکومت اور سیاستدان اس ایشو سے کیوں غائب ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 20  ستمبر‬‮  2018 |

وزیراعظم خان نے کل سعودی عرب کے العربیہ انگلش ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم پوری مسلم امہ‘ تمام مخالف مسلمان ملکوں کو آپس میں جوڑنا چاہتے ہیں‘ ہم اسلامی دنیا کو ایک میز پر بٹھانا چاہتے ہیں‘ ہم ان کے اختلافات ختم کر کے ان میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے اندر ہماری صورتحال کیا ہے؟ ہمارے وزیراعظم اور ہماری سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کبھی یہ سوچا‘ مسلمان مسلمان کو 70 سال سے کافر قرار دے رہے ہیں‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان فرقے کی مسجد اور

امام بارگاہ میں نماز نہیں پڑھتا‘ یہ دوسرے مسلک کے امام کو امام نہیں مانتا‘ ہمارے ملک میں ہر سال سینکڑوں لوگ مذہبی اختلافات کی بنیاد پر قتل کر دیئے جاتے ہیں‘ بارہ ربیع الاول ہو یا پھر محرم عوام کو ریاست بچانے کیلئے ڈبل سواری پر پابندی اور موبائل فون بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے‘ پولیس اور رینجرز کی چھٹیاں ختم کر دی جاتی ہیں اور فوج کو بلا لیا جاتا ہے‘ ہم ستر برسوں میں پاکستانی مسلمانوں میں اتحاد قائم نہیں کر سکے‘ ہم انہیں اکٹھا نہیں بٹھا سکے‘ ہم نے سعودی عرب اور ایران کے اختلافات خاک ختم کرنے ہیں‘ ہم نے شام‘ فلسطین‘ افغانستان اور قطر کو خاک اکٹھا بٹھانا ہے‘ ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا تھا لیکن آج ہم اسلام کے نام پر ہی ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں‘ آج کے انڈیا میں مسلمان کافروں سے محفوظ ہیں لیکن پاکستان میں مسلمان مسلمان کے ہاتھوں محفوظ نہیں‘ کیوں؟ ہم پوری اسلامی دنیا میں ثالثی کرانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں لیکن ہمارے پاس پاکستانی مسلمانوں کو پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ بٹھانے کیلئے وقت نہیں‘ کیوں؟ اور ہماری تمام سیاسی جماعتیں الیکشنوں میں معیشت‘ بے روزگار‘ بجلی‘ گیس‘ ڈیمز‘ صحت‘ تعلیم‘ صنعت حتیٰ کہ سپورٹس تک کیلئے لائحہ عمل جاری کرتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی پارٹی ملک میں مذہبی رواداری‘ مسلکی اختلافات کے خاتمے اور محرم اور ربیع الاول پرامن کے قیام پر

کوئی لائحہ عمل نہیں دیتی‘ کیوں؟ ریاست اور سیاسی جماعتوں نے مذہبی اختلافات کو علماء کرام اور عوام پر کیوں چھوڑ رکھا ہے‘ حکومت اور سیاستدان اس ایشو سے کیوں غائب ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور میں سمجھتا ہوں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کا یوم شہادت مذہبی رواداری پیدا کرنے کیلئے بہترین دن ہے کیونکہ امام حسین رضی اللہ کسی ایک فرقے بلکہ کسی ایک مذہب یا ملک کے نہیں تھے‘ یہ پوری انسانیت کے لیڈر تھے اور ہم اگر ان کے یوم شہادت پر اس ملک میں رواداری پیدا نہیں کر سکتے تو پھر ہم کبھی مسلمان کو مسلمان کے ساتھ نہیں بٹھا سکیں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…