پشاور۔۔۔۔ افغانستان میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے نئی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات اورمسلح جدوجہدسے الگ ہونے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔اعلیٰ سطحی افغان اورحزب اسلامی ذرائع کے مطابق ڈاکٹراشرف غنی کی جانب سے افغان صدر کاعہدہ سنبھالنے کے فوراًبعد قریبی ساتھیوں اور اہم شخصیات کے ذریعے حکومت اورحزب اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ افغانستان کے موجودہ صدر ڈاکٹراشرف غنی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی حزب اسلامی کے رہنماؤں جومختلف مقامات پرموجود تھے کی حمایت حاصل کی بلکہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ان کی کامیابی بھی انجینئرقطب الدین ہلال کی واضح حمایت ہی کی وجہ سے ممکن ہو پائی۔حزب اسلامی افغانستان کے کئی اہم رہنماجن میں انجینئر وحید اللہ صباؤن،جمعہ خان ہمدرد،عبدالہادی مسلم یار،ڈاکٹرفاروق وردگ اورکئی دیگر سیاسی عمل کا حصہ بنے جو طالبان اقتدار کے خاتمے کے بعد سے جنگ کاحصہ تھے،اس وقت بھی چیئرمین سینیٹ (مشرانو جرگہ)عبدالہادی مسلم یار اور اسپیکر قومی اسمبلی (اولسی جرگہ)لطیف ابراہیمی حزب اسلامی افغانستان کے صف اول کے رہنماؤں میں شامل رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یارکی رواں سال کے اختتام تک کابل واپسی کاامکان ہے۔
گلبدین حکمت یار نئی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تیار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ہلاک
-
ہمارا امیرالعظیم
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
-
اگلے ماہ مجموعی طور پر12تعطیلات متوقع
-
رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
-
سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاری
-
انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
-
محبوبہ نے آشنا کو گھر بلا کر بلیڈ سے اس کا نازک عضو کاٹ دیا
-
فیفا صدر کا ارجنٹینا فٹبال فیڈریشن کو بھیجا گیا خط لیک ہوگیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
-
محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
-
اسکول کب کھلیں گے؟ طلبہ اور والدین کے لیے اہم پیش رفت
-
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم



















































