ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

تھر میں بھوک سے خودکشیاں بڑھ گئیں

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

تھر میں خوراک کی کمی کے باعث خواتین میں خون کی کمی عام ہے۔میاں بیوی اور آٹھ بیٹوں پر مشتمل اس گھرانے کے پاس چھ بھیڑیں، دو بکریاں اور اونٹوں کی ایک جوڑی باقی ہے جن کو وہ درختوں سے پتے اتار کر کھلاتے ہیں۔چمو میگھواڑ کے مطابق یہاں بھوک کا راج ہے اس قدر کہ جانور بھی بھوکوں مر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد جو دوسرے بچے بیراجی علاقوں میں گئے تھے وہ بھی واپس آگئے ہیں۔صحرائے تھر میں رواں سال خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔غیر سرکاری ادارے ایسوسی ایشن فار واٹر اینڈ اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینو ایبل انرجی یعنی اویئر کے ڈائریکٹر علی اکبر راہموں کا کہنا ہے کہ صورتحال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2012 میں 24 افراد نے خودکشی کی تھی اور رواں سال کے دس ماہ میں 41 افراد اپنی جان لے چکے ہیں۔خودکشی کرنے والوں میں 90 فیصد ہندو ہیں، جن میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے جس وجہ سے قحط سالی ان کے لیے خوفناک نتائج لاتی ہے۔ ان نتائج سے بچنے کے لیے یہ لوگ مال مویشیوں سمیت بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کرتے ہیں۔
اگرو میگھواڑ ننگر پارکر سے بس کا پانچ گھنٹے سفر طے کر کے عمرکوٹ میں ماہر نفیساتی امراض کے پاس پہنچے تھے۔کرائے، ڈاکٹر کے فیس اور ادویات خریدنے کے لیے انھیں تین میں سے ایک گائے سات ہزار میں فروخت کرنا پڑی۔اگرو میگھواڑ کے چار بچے ہیں، ان میں سے صرف ایک میٹرک پاس ہے اور وہ بھی بیروزگار ہے۔ بات کرتے وقت ان کا دائیں بازو مسلسل کانپتا رہا۔وہ بتاتے ہیں کہ بارشوں کے بعد کچھ کام دھندا ہوتا تھا، لیکن ان دنوں فارغ بیٹھے ہیں، چند مویشی ہیں جن پر گزر بسر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر لکیش کھتری تھر اور آس پاس کے علاقے میں واحد ماہر نفسیات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگرو میگھواڑ ڈپریشن کا شکار ہیں: ’قحط سالی کے نتیجے میں معاشی دباؤ نے لوگوں پر ذہنی دباؤ بڑھا دیا جس وجہ سے ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس وجہ سے خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔‘

’قحط سالی کے نتیجے میں معاشی دباؤ نے لوگوں پر ذہنی دباؤ بڑھا دیا ہے‘ڈاکٹر لکیش کے مطابق قحط سالی کی وجہ سے لوگوں کے پیسے نہیں ہیں، خوراک کی کمی بہت ہے اس سے ذہنی نشو و نما بھی متاثر ہوتی ہے۔
’متاثرین جببیراجی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے پاس اتنا کچھ ہے اور ان کے پاس کھانے تک نہیں۔ اس سے ان میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ انھی احساسات میں کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس زندگی سے بہتر ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔‘تھر میں خوراک کی کمی کے باعث خواتین میں خون کی کمی عام ہے، جس کے نتیجے میں بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں۔ہر دوسرے روز یہاں سے بچوں کی ہلاکت کی خبریں آ رہی ہیں لیکن حکومت سندھ کا موقف ہے کہ کسی بھی بچے کی ہلاکت بھوک سے ہوئی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…