منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کا دہشت گردی کیخلاف بڑا اعلان، کابل میں افغان صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

کابل (نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد نواز شریف نے فغان طالبان کی جانب سے تشددمیں اضافے اور آپریشن عزم کے نام سے کئے جانیوالے حملوں کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کی غرض سے کسی بھی عسکریت پسند یا گروپ کی جانب سے کی جانیوالی کی کوشش کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا ۔دہشتگردوں کی تلاش کی جانے والی پناہ گاہوں کو براہ راست کارروائی کے ذریعے ختم کر دیا جائیگا۔ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔ پاکستان افغان پولیس کی استعداد کار میں اضافے کیلئے اقدامات کریگا ۔یقین ہے ہم اپنے پختہ عزم اورجامع ومربوط حکمت عملی کے ذریعے دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہونگے۔ افغانستان میں پائیدار امن بین الافغان مفاہمتی عمل کے بغیر صرف خواب رہے گا ۔ سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کیلئے باہمی طور پر متفقہ بنیاد پر مربوط آپریشنز کی منصوبہ بندی کر کے عمل کیا جائیگا ۔کثیر ملکی توانائی منصوبوں پر تیزی سے پیشرفت کی ضرورت ہے ۔ خطے میں امن اور استحکام کے مشترکہ اہداف کیلئے ہم مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔ منگل کو اپنے دورہ کابل کے دورہ افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے افغانستان میں اپنے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں آ کر افغان بھائیوں کے درمیان موجودگی میرے لئے ہمیشہ مسرت کا باعث رہی ہے اور افغانستان آنا میرے لئے اپنے دوسرے گھر میں آنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی عوام کی جانب سے افغان بھائیوں کیلئے نیک خواہشات لے کر آیا ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دلوں میں افغانستان کیلئے ایک خاص مقام ہے کوئی بھی دوسرے دو ملک ایسے نہیں ہیں جن کے درمیان اس قدر زیادہ چیزیں مشترک ہوں ہم دوست ہیں ، ہم بھائی ہیں اور ہم ہر آزمائش اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات ہر سرحد عبور کر چکے ہیں اور ان تعلقات کو ہمارے مشترکہ مذہب اور ثقافتی روایات کی وجہ سے مزید توانائی میسر آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم نے دونوں ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز کے حوالے سے وسیع مشاورت کی ہے ہم نے اتفاق کیا ہے کہ خطے کو مصیبت میں ڈالنے والے دہشتگردی کی لعنت سے جامع انداز میں نمٹنے تک امن اور استحکام سراب ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے پختہ عزم ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہونگے۔ نواز شریف نے کہا کہ ایک پر امن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے سب سے زیادہ مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…