ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ملاقات جاری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کہاں ملاقات کرینگے؟ بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ملاقات جاری ہے۔وزیراعظم ہاؤس میں جاری ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر حکام بھی موجود ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ اور دیگر حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور افغانستان میں امن عمل سے

متعلق امور پر بات چیت کی جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مائیک پومپیو کے درمیان دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی وفد میں امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد بھی شریک تھے۔دفتر خارجہ میں ہونے والے مذاکرات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان اور مائیک پومپیو نے امریکی وفد کی نمائندگی کی۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کا طیارہ نور خان ایئر بیس پہنچا تو دفتر خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا جب کہ امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ الگ طیارے میں اسلام آباد پہنچے۔امریکی وزیر خارجہ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے جب کہ وہ سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات اس سطح کے نہیں کہ اس کی منسوخ شدہ امداد بحال کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے پاکستان کی امداد منسوخی کوئی اچانک قدم یا فیصلہ نہیں تھا اور نہ ہی پاکستانیوں کو اس پر چونکنا چاہئے،

پاکستانی حکومت کو معلوم ہے کہ یہ رقم کیوں روکی گئی ہے کیونکہ ہمیں انہوں نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی جس کی ہمیں ان سے توقع تھی۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستانی حکام کیساتھ ملاقاتوں میں یہ باور کرائیں گے کہ امریکہ کی توقعات ان سے پوری نہیں ہوئیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ثالثی کے لیے پاکستان امریکا کی مدد کرے، اگر پاکستان کا تعاون نہ ملا

تو جو ہوگا وہ جنرل نکلسن اور جنرل ملر بتاچکے ہیں۔ پاکستان میں نئی حکومت کے آغاز پر ہی ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کواز سرِ نو شروع کرنا ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں مائیک پومپیو نے بتایا کہ دورہ پاکستان کے بعد بھارت بھی جائیں گے اورمذاکرات کے دوران وہ بھارتی حکام کو بھارت کی جانب سے روس سے میزائل نظام کی خریداری پر امریکی تشویش سے آگاہ کریں گے

جب کہ ایران سے تیل کی درآمدات روکنے پر بھی اصرار کریں گے۔تاہم امریکی وزیرِ خارجہ کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں معاملات ان دیگر امور پر اثر انداز نہیں ہوں گے جن میں تعاون کے لیے دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بات چیت جاری ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے آغاز پر ہی ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کواز سرِ نو شروع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی تعلقات میں کئی چیلنج درپیش ہیں لیکن ان کے بقول ہمیں امید ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ ہم مشترک قدریں تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے بعض مشترکہ مسائل پر مل کر کام شروع کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…