منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

فیس بک پر دہشت گردی کی تشریح ریاستوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے،اقوام متحدہ

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

جینیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ (یو این) سے منسلک انسانی حقوق کی ایک ماہر نے فیس بک انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی سے متعلق مواد کی تشریح کو غلط اور مبہم انداز میں پیش کرنے سے گریز کرے، تاکہ حکومتیں اپنے خلاف کام کرنے والے گروپس اور تنظیموں کے خلاف منظم کارروائی کر سکیں۔ فیونولا این آولن نے فیس بک کے چیف مارک زکر برگ کو ایک خط لکھا ہے۔

جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ ریاست مخالف تمام گروپس کو غلط طریقے سے پیش کرتی ہے، جو تشدد کو کسی خاص مقصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے تحفظ کے لیے کام کرنے والی انسانی حقوق کی اقوام متحدہ کی نمائندہ نے خط میں مزید لکھا ہے کہ ‘ویب سائٹ کی جانب سے کچھ تشریح کو انتہائی مبہم انداز میں پیش کرنے سے کچھ ممالک اور حکومتوں کو دہشت گردی اور تشدد پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے روکتی یا کمزور کرتی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک پالیسی میں مسلح یا باغی گروپوں کا احتساب کرنے سے متعلق عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق کوئی بھی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خط میں تشدد پھیلانے والے کسی گروپ کی کوئی واضح مثال نہیں دی، تاہم انہوں نے لکھا ہے کہ ایسے عمل سے بعض ممالک کی حکومتوں کو مسلح مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس طرح شام میں تمام مخالفین کو دہشت گرد کے طور پر لیا جاتا ہے، یہاں تک اس کو کئی دیگر ممالک بھی دہشت گردی نہیں مانتے۔ اقوام متحدہ کی کارکن کے بیان پر فیس بک نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ فیونولا این آولن نے خط میں لکھا ہے کہ فیس بک آن لائن دہشت گردی کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم انہوں نے لکھا ہے کہ ویب سائٹ کو اپنے صارفین کے انسانی حقوق سے متعلق معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ غلط فیصلوں کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی کارکن نے مزید لکھا ہے کہ حد سے زیادہ دہشت گردی کی مبہم انداز میں تشریح فیس بک کی خدمات تک رسائی اور خود مختارانہ سروسز کے استعمال کے حوالے سے امتیازی سلوک’ جیسے معاملات کو جنم دے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…