بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک پر دہشت گردی کی تشریح ریاستوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے،اقوام متحدہ

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

جینیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ (یو این) سے منسلک انسانی حقوق کی ایک ماہر نے فیس بک انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی سے متعلق مواد کی تشریح کو غلط اور مبہم انداز میں پیش کرنے سے گریز کرے، تاکہ حکومتیں اپنے خلاف کام کرنے والے گروپس اور تنظیموں کے خلاف منظم کارروائی کر سکیں۔ فیونولا این آولن نے فیس بک کے چیف مارک زکر برگ کو ایک خط لکھا ہے۔

جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ ریاست مخالف تمام گروپس کو غلط طریقے سے پیش کرتی ہے، جو تشدد کو کسی خاص مقصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے تحفظ کے لیے کام کرنے والی انسانی حقوق کی اقوام متحدہ کی نمائندہ نے خط میں مزید لکھا ہے کہ ‘ویب سائٹ کی جانب سے کچھ تشریح کو انتہائی مبہم انداز میں پیش کرنے سے کچھ ممالک اور حکومتوں کو دہشت گردی اور تشدد پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے روکتی یا کمزور کرتی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک پالیسی میں مسلح یا باغی گروپوں کا احتساب کرنے سے متعلق عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق کوئی بھی پالیسی وضع نہیں کی گئی۔۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خط میں تشدد پھیلانے والے کسی گروپ کی کوئی واضح مثال نہیں دی، تاہم انہوں نے لکھا ہے کہ ایسے عمل سے بعض ممالک کی حکومتوں کو مسلح مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس طرح شام میں تمام مخالفین کو دہشت گرد کے طور پر لیا جاتا ہے، یہاں تک اس کو کئی دیگر ممالک بھی دہشت گردی نہیں مانتے۔ اقوام متحدہ کی کارکن کے بیان پر فیس بک نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ فیونولا این آولن نے خط میں لکھا ہے کہ فیس بک آن لائن دہشت گردی کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاہم انہوں نے لکھا ہے کہ ویب سائٹ کو اپنے صارفین کے انسانی حقوق سے متعلق معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ غلط فیصلوں کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی کارکن نے مزید لکھا ہے کہ حد سے زیادہ دہشت گردی کی مبہم انداز میں تشریح فیس بک کی خدمات تک رسائی اور خود مختارانہ سروسز کے استعمال کے حوالے سے امتیازی سلوک’ جیسے معاملات کو جنم دے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…