ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

دل کے مریضوں کیلئے خوشخبری۔۔ پاکستان میں پہلی بار سینہ چاک کئے بغیر دل کے والو تبدیل ہونے لگے ، ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کہ آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میڈیکل سائنس کی ترقی نے ایک اور سیڑھی پر قدم رکھ دیا، دل کے علاج کے جدید طریقے کو آغاخان ہسپتال نے اپنا لیا ہے جہاں سینہ چاک کئے بغیر ٹے وی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دل کے مریضوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ ٹے وی طریقہ علاج اپنا کر وہ صحت کی خوشیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طریقہ علاج میں نہ تو سینہ چاک

ہونے کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی طویل بیڈ ریسٹ کی فکر ہوتی ہے۔ اور پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی آغا خان ہسپتال میں متعارف کروا دی گئی ہے۔ اس طریقہ علاج کے ذریعے مریض کی ران یا گردن کی شریان سے مخصوص ٹیوب کے ذریعے دل کےمتاثرہ والو کو علیحدہ کر کے نیا والو ڈال دیا جاتا ہے اور اس دوران مریض کا دل بھی نارمل کام کرتا رہتا ہے۔ یہ طریقہ علاج انجیوپلاسٹی سے ملتا جلتا ہے۔ ٹے وی ٹیکنالوجی کے حوالے سے آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹر عثمان فہیم (اسسٹنٹ پروفیسر، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ) کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم مریض کی شریانوں کے ذریعے ٹیوب لیکر دل تک لے کر جاتے ہیں اور پرانے والو کو نکالے بغیر نیا والو لگا دیتے ہیں۔ اور اس عمل کے دوران دو گھنٹے لگتے ہیں اور مریض اس کے بعد ہسپتال میں مانیٹرنگ اور نگہداشت کے سلسلے میں دو دن رہتے ہیں جبکہ گھر پر تقریباََ ریکوری کا عرصہ ایک ہفتے پر محیط ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عثمان فہیم کے زیر علاج ایک 94سالہ عارضہ قلب میں مبتلا مریض مسعود حسن نے بتایا کہ میری عمر 94سال ہے اور صحت کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہتا ہوں، مجھے پہلے سے ہی کافی بیماریاں تھیںلیکن میرا نہیں خیال کہ اس آپریشن سے ان بیماریوں کا کوئی تعلق ہے مگر بیماریاں تو ہونگی کیونکہ میری عمر 94سال ہے مگر مجھے اپنے ڈاکٹر پر یقین ہے کہ انہوں نے میرا صحیح علاج کیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بڑی عمر کے عارضہ قلب میں مبتلا افراد میں والو کی تبدیلی کیلئے ماہرین نے ٹے وی ٹیکنالوجی کو نہایت مفید قرار دیا ہے۔ والو تبدیلی کے بعد دو دن بعد ہی مریض کو ہسپتال سے رخصت کر دیا جاتا ہے جبکہ تبدیل کیا گیا والودس سال تک باآسانی کام کرتا رہتا ہے اور اسے دوبارہ بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عثمان فہیم کا کہنا تھا کہ کئی مریض

ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی اوپن ہارٹ سرجری ممکن نہیں ہوتی یا ہائی رسک ہوتی ہے اور اس طرح کے مریضوں کیلئے یہ ٹے وی ٹیکنالوجی بہت مفیداور بہتر ہے کیونکہ اس میں نہ تو چھاتی چاک کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی دل کو روکنا نہیں پڑتا۔ اس طریقہ علاج میں خون بہنے کا چانس کم ہوتا ہے جبکہ انیسیزیا کی مشکلات بھی کم ہوتی ہیں اور نہ ہی اس میں انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ

دورہ پڑنے کا چانس بھی کم ہوتا ہے۔ اس طریقہ علاج سے گردوں پر بھی اثر نہیں پڑتا اور مریض بجائے ہفتہ ہسپتال میں رہنے کے دو دن میں ہی چلے جاتے ہیں اور ریکوری بھی جلدی ہوتی ہے۔ ٹے وی یعنی ٹرانس کیتھیٹر والوامپلانٹیشن کی تکنیک کو دل کے والو کی پیوند کاری یا تبدیلی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے  ذریعے آغا خان ہسپتال 14مریضوں کا کامیاب علاج کر چکا ہے۔ اسے جدید میڈیکل سائنس میں دل کے امراض کا آسان ترین طریقہ علاج مانا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی ٹے وی ٹیکنالوجی کے ذریعے دل کے والو تبدیل کئے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…