پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کی پوری حکومت اورپارلیمانی سسٹم کو گالی کے ملک پر کیا اثرات پڑیںگے؟ نیا صدر پاکستان کون ہوگا؟نوازشریف اور آصف علی زرداری عمران خان کو ڈھیل دیکر ان سے کیا کرواناچاہتے ہیں؟ن لیگ اب اڈیالہ جیل کے باہربھی کیوں نظر نہیں آتی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے آج سینٹ کے اجلاس میں کھڑے ہو کرجو فرمایا، ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا انہیں روکتے رہے لیکن یہ اپنی بات پر قائم رہے‘ مشاہد اللہ کے الفاظ قابل مذمت بھی ہیں اور یہ ان جیسے پڑھے لکھے اور مہذب شخص کے منہ سے اچھے بھی نہیں لگتے‘ آپ کو یاد ہو گا 18 جنوری کو شیخ رشید اور عمران خان نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی تو پوری حکومت نے مذمت کی تھی‘

میڈیا اور عوام بھی اس مذمت میں شامل تھے لیکن آج آپ کے منہ پر بھی لعنت کا لفظ آ گیا‘ آپ کو اگر الیکشن اور الیکشن کے رزلٹ پر اعتراض ہے تو آپ قانونی اور پارلیمانی جنگ لڑیں‘ آپ کو کس نے یہ حق دیا ہے آپ یوں پوری حکومت اور پارلیمانی سسٹم کو گالی دے دیں‘ حکومت صرف ایک جماعت کی حکومت نہیں‘ یہ پورے ملک کی حکومت ہے‘ یہ پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرتی ہے‘ آپ اگر اسے اس طرح بے عزت کریں گے تو یہ پورے ملک‘ پوری ریاست کی بے عزتی ہو گی اور یہ زیادتی ہے‘ نفرت اور حقارت کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی جگہ اب رک جانا چاہیے ورنہ یہ پورے ملک کی پوری اخلاقیات کو تباہ کر دے گا۔ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، کل ملک کے 13ویں صدر کا الیکشن ہوگا‘ مولانا اس وقت بھی آصف علی زرداری کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زرداری صاحب صدارت پلیٹ میں رکھ کر پاکستان تحریک انصاف کو پیش کر رہے ہیں‘ میں اگر حالات کا تجزیہ کروں تو میرا خیال ہے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں عمران خان کو ہر صورت میں ہر قسم کی سپورٹ دینا چاہتے ہیں‘ ان کی خواہش ہے عمران خان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے تاکہ حکومت کے پاس اپنی بیڈ گورننس اور غلط فیصلوں کا کوئی جواز نہ بچے اور پاکستان تحریک انصاف کو ملک کے اصل مسائل کا ادراک بھی ہو سکے اور یہ پوری طرح ایکسپوز بھی ہو جائے‘ یہ تھیوری کس حد تک درست ہے ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے

اور ن لیگ کہاں غائب ہو گئی ہے‘ یہ اب کسی جگہ حتیٰ کہ اڈیالہ جیل کے سامنے بھی نظر نہیں آتی‘ یہ کہاں چلی گئی‘ کل کا دن مشترکہ اپوزیشن کا آخری دن ہو گا‘ کیا اپوزیشن اس کے بعد دوبارہ اکٹھی ہو سکے گی اور عمران خان نے میڈیا اور قوم سے تین ماہ مانگ لئے ہیں‘ ان کا کہنا ہے مجھے تین ماہ دے دیں‘ آپ کو تبدیلی نظرآئے گی‘کیا تین ماہ کیلئے حکومت پر تنقید بند کر دینی چاہیے‘ ہم ان تمام ایشوز پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…