جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

شہلا رضا نے متنازع ٹوئٹ پر معافی مانگ لی ،ٹوئٹ کرنے کے پیچھے اصل حقیقت کیا تھی؟سب کچھ بتا دیا

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی)پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے تنقید کا سبب بننے والے ٹوئٹ پر معافی مانگ لی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شہلا رضا نے ایک پوسٹ شیئر کیا ہے جس میں ان کاکہنا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے دوران ایک

سوشل میڈیا ٹیم تشکیل دی تھی جو ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلا رہی تھی۔ اس دوران ٹیم کے ہی ایک ممبر نے ان کے ٹوئٹر ہینڈل سے کچھ غیرمناسب ٹوئٹ کیے جو کہ لوگوں میں انتشار کا باعث بنے۔ شہلا رضا نے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم ختم کردی ہے اور اب وہ اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ خود چلائیں گی جبکہ وہ کابینہ اجلاس میں مصروفیت کے باعث ان باتوں سے بے خبر رہیں۔ آخر میں انہوں نے لکھا کی ان کی معافی قبول کی جائے۔سابق ڈپٹی اسپیکر شہلا رضانے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک اور پوسٹ جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے نام سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر تین جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جس کی وہ کئی مرتبہ شکایت بھی درج کرا چکی ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ فیس بک پر ان کے نام سے بنائے گئے جعلی اکاؤنٹس سے بھی نفرت انگیز اور بیہودہ باتیں لکھی جارہی ہیں، اس کے علاوہ شہلا رضا کے پیروکاروں سے وہ تحائف کی درخواست بھی کر رہے ہیں۔ شہلا رضا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے اپنے نام سے فیس بک پر بنائے گئے تمام جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے اور جعلی اکاؤنٹس بنانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی درخواست کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…