بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ہم سے غلطی ہو گئی، نواز شریف کے دور حکومت میں یہ کام کرنا چاہیے تھا، تحریک انصاف نے بڑا اعتراف کر لیا

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ بعد وزیراعظم عمران خان ایک بہادرانہ اعتراف کریں گے کہ میں معافی مانگتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ یا ادارے ٹھیک کام نہیں کر رہے اور ہم سب کو ان کے اعتراف پر بہت خوشی بھی ہو گی۔ پروگرام کے دوران معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کاشف عباسی نے بڑا اچھا سوال کیا کہ جیسے آپ حکومت چلا رہے ہیں

ایسا لگ رہا ہے کہ آپ حکومت لینے یا وزیراعظم بننے کے لیے تیار نہیں تھے، جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہاں یہ بات ٹھیک ہے، میں چیزیں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ وزیراعظم کے اس جواب پر میں نے کہا کہ میں اور عامر متین ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ کریڈٹ لے سکتے ہیں کہ مسلسل پانچ سال یہ کہتے رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں جائیں، وقفہ سوال و جواب میں بیٹھیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بیٹھیں، فارن آفس کمیٹی میں بیٹھیں، فنانس کمیٹی میں بیٹھیں تاکہ آپ کو پتہ تو چلتا کہ گورننس ہوتی کیا ہے، بیوروکریسی کیسے فیصلے کرتی ہے اور وزیراعظم کس طرح فیصلے کرتا ہے، منصوبے کیسے بنتے ہیں، فائل ورک کیسے ہوتا ہے اور میرے یہ سب کچھ کہنے پر فواد چوہدری نے سر ہلا کر میری بات کی تائید کی کہ آپ ٹھیک بات کر رہے ہیں۔ معروف صحافی نے کہا کہ عمران خان حکومت میں آ گئے ہیں اور اب بیورو کریسی انہیں بریفنگ دے رہی ہے، اپنی مرضی کے اعداد و شمار دے رہی ہے اور اپنی مرضی کے حل بتا رہی ہے جو ہم پہلے پانچ سالوں میں دیکھتے رہے ہیں۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ تین ماہ بعد وزیراعظم عمران خان ایک بہادرانہ اعتراف کریں گے کہ میں معافی مانگتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ یا ادارے ٹھیک کام نہیں کر رہے اور ہم سب کو ان کے اعتراف پر بہت خوشی بھی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…