جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سردیاں شروع ہونے سے پہلے عوام پر بڑا’’بم‘‘گرادیا گیا ،ضرورت کی اہم ترین چیز کی قیمتوں میں پھر اضافہ

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (سی پی پی) عالمی سطح پر طلب بڑھنے اور سعودی آرامکوکنٹریکٹ پرائس بڑھنے کو جواز بنا کر مقامی پروڈیوسرز نے ستمبر میں مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فی کلوگرام قیمت مزید 4 روپے کا اضافہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے بتایا کہ ستمبر کے مہینے کے لیے فی ٹن ایل پی جی کی سعودی آرامک

وکنٹریکٹ پرائس میں مزید34 ڈالر کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں فی ٹن درآمدی ایل پی جی کی قیمت بڑھ کر 624 اعشاریہ 50 ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔علی حیدر نے بتایا کہ پاکستان میں مرکزی بینک کے قوانین میں مزید سختی اور ڈالر کی قدر میں ہونے والے نمایاں اضافے کی وجہ سے اگست2018 کے دوران ملک میں ایل پی جی کی درآمدات میں 90 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود مقامی پرڈیوسرز کی جانب سے رواں ماہ کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں پے درپے اضافے کاسلسلہ جاری رہا جو پسماندہ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں قدرتی گیس کی سہولت سے محروم غریب صارفین کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقامی پروڈیوسرز عالمی سطح پر بڑھنے والی قیمتوں کو جواز بناکر بے دریغ انداز میں ایل پی جی کی قیمت بڑھا رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر جب ایل پی جی کی قیمت میں کمی ہوتی ہے تو اس کمی کے تناسب سے قیمتیں گھٹانے سے گریز کرتے ہیں۔علی حیدر نے بتایا کہ جمعرات کو کنٹریکٹ پرائس بڑھنے کے نتیجے میں صرف ملک میں درآمد ہونے والی ایل پی جی کی فی کلوگرام قیمت میں 4 روپے فی 11 اعشاریہ 8 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں 50روپے اور فی 45 اشاریہ 4 کلوگرام کی قیمت میں195 روپے 3 ستمبر سے اضافہ ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…