بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی سائنسدان کا پانی سے آرسینک ختم کرنے والا دنیا کا سستا فلٹر تیار کرلیا

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

فیصل آباد (این این آئی)فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ایک سائنسدان نے پانی میں شامل انہتائی خطرناک مرکب آرسینک کو پانی سے الگ کرنے کیلئے دنیا کا سستا ترین فلٹر تیار کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر نبیل نیازی نے تربوز کے چھلکے کی مدد سے پانی سے آرسینک کو الگ کرنے کے لیے دنیا کا کم قیمت ترین فلٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

آرسینک ایسا زہر ہے جو قدرتی طور پر زیر زمین پانی میں موجود ہے، اس پانی کے استعمال سے پیٹ کے امراض،گردوں اور جگر کی بیماریوں سے ہر سال 43 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔آرسینک کو پانی سے الگ کرنے والے دستیاب طریقوں پر ہر چار ماہ بعد 20 سے 25 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے تاہم ڈاکٹر نبیل خان نیازی نے تربوز کے چھلکے سے صرف 5 ہزار روپے میں 8 ماہ کے لیے قابل استعمال ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے۔ڈاکٹر نبیل کے مطابق واٹر میلن کا چھلکا مفت میں دستیاب ہے، ہم نے اس کو پیسا اور زینٹھیٹ نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے اس میں تھوڑی سی ترمیم کی، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ نا تو پانی میں حل ہو گا اور نا ہی خراب ہو گا، اسے لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا کہ یہ آرسینک کو نکالتا ہے یا نہیں تو ہمیں بڑے اچھے رزلٹ ملے، تقریبا 95 سے 98 فیصد آرسینک پانی سے ختم ہو گیا۔ڈاکٹر نبیل نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی میں بجلی کا استعمال نہیں ہے، اس فلٹر سے ملک کے پسماندہ علاقوں میں غریب آبادی کیلئے آرسینک سے پاک پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔فیصل آباد یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہے کہ تھوڑے سے فنڈز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں یہ ٹیکنالوجی انتہائی کم قیمت میں پہنچائی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق ملک میں پانی کو آرسینک سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کو آرسینک کے مسائل سے دوچار دوسرے ملکوں کو فروخت کر کے پاکستان زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…