جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’کیا مزہ آئے کہ عمران خان وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان صدر پاکستان ‘‘ اپوزیشن جماعتوں کی پریس کانفرنس میں محمود اچکزئی نے ایسی بات کہہ دی کہ سب ہنس پڑے ،مولانا فضل الرحمان کی ہنس ہنس کر کیا حالت ہو گئی ؟

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

کوئٹہ (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں ابھی تک آزادی کے آثار نظر نہیں آرہے، ہماری معیشت، سیاست اور دفاع دبائو کا شکار ہے، ہم پر لازم ہے کہ ہم آزادی کیلئے بہترین پیش رفت کریں، پاکستان میں جموہریت ادارے مستحکم ہونے چاہئیں، امید ہے پیپلز پارٹی اپنا امیدوار دستبردار کرے گی۔ جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بنے 70سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے،

ابھی تک آزادی کے آثار نظر نہیں آرہے، ہماری سیاسی معیشت اور دفاع دبائو کا شکار ہے، ہم پر لازم ہے کہ ہم آزادی کیلئے بہترین پیشرفت کریں، ضرور نہیں کہ ہم اپنی جدوجہد میں کامیاب ہو سکیں، ہمیں اس کیلئے پیش رفت کرنا ہو گی، ہمیں بیرونی ہر قسم کے دبائو سے وطن عظیم کو آزاد کرنا ہے، میں محمود خان اچکزئی اور ان کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس مار کے میں ہمارا بہت بڑا سہارا بنے ہوئے ہیں، منصب مل جاتے ہیں منزل ملنا ضروری ہوتی ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…