منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

5 ہزار روپے کے نوٹ بند ہونے کی افواہوں پر سونے کی قیمت میں اضافہ

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پانچ ہزار روپے کے نوٹ اور 40 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز بند ہونے کی افواہوں کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 58 ہزار 300 روپے سے تجاوز کرگئی۔ گزشتہ 2 روز میں 3 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے متعلق ڈیلرز کا کہنا تھا کہ اگر سونے کی خریداری کا رجحان جاری رہا تو فی تولہ قیمت 60 ہزار روپے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق صدر آل سندھ صرافہ ایسوی ایشن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت سونے کا استعمال بڑھ گیا ہے جس سے سونے کی مقدار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ڈیلرز کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 5 ہزار روپے کے نوٹ اور 40 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈ بند ہونے کی افواہوں نے مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، ان افواہوں سے سونے کی خریداری میں اضافہ ہوا۔ گولڈ ڈیلرز نے کہا کہ چند روز سے افواہیں گردش میں ہیں کہ حکومت 5 ہزار روپے کے نوٹ اور 40 ہزار روپے کا انعامی بانڈز بند کررہی ہے جبکہ کل اسٹیٹ بینک کا بیان بھی سامنے آیا تھا کہ کوئی نوٹ یا بانڈ بند نہیں کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کئی سال بعد ایسا ہوا ہے کہ ملک میں سونے کی قیمت دبئی میں سونے کی قیمتوں کے مقابلے میں 300 روپے فی تولہ بڑھ گئی ہیں، عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ سے کم ہوتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 7 ڈالر اضافے کے بعد 1 ہزار 2 سو 12 ڈالر ہوگئی تھی۔ خیال رہے کہ جولائی میں اوپن اور انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں اضافے کی وجہ سے مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…