اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) ممبئی لڑکیوں کیلئے جیون ساتھی کی تلاش والدین کیلئے جس قدر بڑا مسئلہ ہوتا ہے، خود لڑکیوں کیلئے بھی بے حد اہم ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار کے بدلنے سے اگرچہ لڑکیوں نے اپنے لئے جیون ساتھی کی تلاش خود بھی شروع کردی ہے تاہم اس مقصد کیلئے لڑکا تلاش کرتے ہوئے ان کے ذہن میں مغربی لڑکیوں سے خاصا مختلف نقشہ ہوتا ہے کیونکہ انہیں مغربی فلموں کے جیسا ایک رومانوی ہیرو بھی چاہئے ہوتا ہے مگر ساتھ ہی اسے ایسا خاندانی اقدار کا پابند بھی ہونا چاہئے جو کہ ان کے والدین کو بھی قبول ہوجائے۔ مشرقی و مغربی ہیروز کے مرکب سے بنا ہوا یہ آئیڈیل مرد اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا ہے، اس لئے اس کی تلاش بند کردیں۔ خاص کر اگر فلمیں دیکھ دیکھ کے آپ کے ذہن میں مندرجہ ذیل سات اقسام کے ہیروز کا تصور بس چکا ہے تو اپنے خیالات بدلیں کیونکہ اس طرح کے مرد تلاش کرنا اب ناممکن ہے۔اب وہ رومانوی ہیرو کہیں دکھائی نہیں دیتے ہیں جو کہ اپنی ہیروئن کو طویل محبت نامے لکھا کرتے تھے۔اسی طرح دل والے دلہنیا لے جائیں گے کے بابوجی سے لڑائی کرلینے والے ہیروز بھی اب کہیں دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ آج کے دور میں لڑکوں کیلئے اپنی عزت نفس سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا اور وہ محبت پالینے کی خاطر اپنی عزت کو داو¿ پر نہیں لگاتے۔اسی طرح اسی کی دہائی میں جس طرح کے ہیرو انیل کپور بنا کرتے تھے، اب ویسے مرد بھی دکھائی نہیں دیتے جو کہ پرکشش بھی دکھائی دیں ، ان میں رومانوی خصوصیات بھی ہوں۔ وہ دل پھینک بھی ہوں اور بوقت ضرورت اپنی مردانگی کا مظاہرہ بھی کریں۔آج کے دور میں بدلتی اقدار کے سبب اب لڑکوں کیلئے آن لائن دوستیاں اور ڈیٹنگ کوئی نئی بات نہیں رہی ہے، اس لئے اگر آپ یہ چاہتی ہیں کہ آپ کا ساتھی ایسا ہو جو کبھی ڈیٹنگ ویب سائٹ پر لاگ ان بھی نہ ہوا ہو تو یہ ناممکن ہے۔اب جدید دور ٹیکنالوجی کا ہے، اس لئے محبوب کی جانب سے پیار بھرے رقعے ملنے کا انتظار مت کریں، ان کی جانب سے موصول ہونے والے ٹیکسٹ پیغامات کو ہی کافی جانیں۔
ہالی ووڈ کی رومانوی فلموں میں ہیرو موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ انہیں کسی طرح اپنی محبوبہ کے ہمراہ کسی بال میں رقص کا موقع مل سکے۔ جنوبی ایشیا میں ایسے کسی موقع کی تلاش میں رہنا بیکار ہے کیونکہ یہاں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ اعلی طبقے میں ڈسکو پارٹیز کا تصور تو کیا جاسکتا ہے تاہم یہ رومانوی تصور والے بالز اب یہاں دیکھنے کو نہیں ملتے ہیں۔
اسی طرح وہ مرد جو کہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو پسند کرتے ہوں، اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ہیں۔ اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں ذمہ داریوں کے بوجھ کے سبب کسی بھی فرد کیلئے آزادی سے اپنی نجی زندگی کا مزہ لینے کا موقع دستیاب نہیں ہوتا ہے۔ ماضی کے لڑکے شرم و حیا کے سبب ایسی تنہا زندگی کا تصور اپنے دل میں دبائے رکھتے تھے تاہم اب اپنی ذات کیلئے سکون ہی اولیت رکھتی ہے، اسی لئے لڑکے خود کوشش کرتے ہیں کہ وہ شادی کے فوراً بعد ہی الگ گھر لے لیں۔
سات قسم کے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































