جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دیدی جائے اگر۔۔۔سوشل میڈیا پرشدید تنقید کے بعد سلیم صافی سے رہا نہ گیا،عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)میری وزیراعظم سے گزارش ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے ۔اگر میرے خلاف کسی سے بھی پیسے لینا ثابت ہو جائے تو مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دے دی جائے۔معروف صحافی سلیم صافی کا مطالبہ ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل سلیم صافی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیر اعظم عمران خاننے سابق وزیراعظم نواز شریف کے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں

جس پر انہیں بتایا گیا کہ نواز شریف اپنےا خراجات خود اپنی جیب سے ادا کرتے تھے، وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے چیکس بھی دکھائے گئے۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے ساتھیوں نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور سوشل میڈیا پر انکا خوب مذاق بنایا گیا۔ان کے ساتھ گزشتہ کچھ دنوں سے جو کچھ ہورہا ہے ،اس پر بات چیت کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئیے۔اس بحث کو سمیٹنے اور میڈیا پر اعتبار کو بحال کرنے کے لیے میری وزیراعظم سے گزارش ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔جو تمام مالکان اور ہم اینکرز کے اثاثوں کی چھان بین کرے اور بے شک اس کام کا آغاز مجھ سے کریں اور مجھ سے پوچھیں کہ آپ کے جو اثاثے ہیں ان کو ثابت کریں۔جب کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ ہم نے کسی حکومت یا کسی لیڈر سے پیسے لیے ہیں یا نہیں؟یہ بھی دیکھا جائے کہ ہم سے کون غیر ملکی سفارتخانوں میں جا کر بوتلیں اڑاتا ہے۔اور اس بات کی بھی تحقیق کی جائے کس صحافی نے کتنا ٹیکس دیا اور کس کس نے سرمایہ داروں سے پیسے لیے۔اگر میرے خلاف کسی بھی ایجنسی یا کہیں سے بھی پیسے لینا ثابت ہو جائے تو مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دے دی جائے اور باقیوں کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ان کا کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ وہ اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی جماعت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…