جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

گھر کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اب بجلی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ، بس گھر میں ایک میز لے آئیں، حیرت انگیز زایجاد منظر عام پر

datetime 19  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان جیسے ممالک میں گرمی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ائیرکنڈیشنر کا استعمال بڑھ جاتا ہے جو بجلی کے بلوں میں بھاری اضافے کا سبب بنتا ہے مگر اب ایک ایجاد یہ مسئلہ حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اور وہ ہے بظاہر بالکل عام نظر آنے والی میز۔جی ہاں میز فرنیچر کا وہ حصہ ہے جو صدیوں سے لگ بھگ ایک ہی شکل میں تیار ہورہا ہے

مگر ایک فرنچ ڈیزائنر نے اسے بغیر بجلی کے استعمال کے ایک اے سی جیسی ڈیوائس میں بدل دیا ہے۔پیرس سے تعلق رکھنے والے صنعتی ڈیزائنر جین سبسٹین لارینج نے ایک انجنیئر رافیل مینارڈ کے ساتھ مل کر زیرو انرجی فرنیچر ٹیبل (زی ای ایف) تیار کی ہے جو کسی بھی کمرے کا درجہ حرارت کنٹرول کرتی ہے۔زی ای ایف نامی یہ میز دیکھنے میں تو دیگر میزوں جیسی ہی ہے مگر اس کی خاصیت اے سی سے نجات دلا کر بجلی کے خرچے میں 60 فیصد تک کمی لانا ہے۔جین سبسٹین نے ایک انٹرویو کے دوان بتایا کہ بلوط سے تیار کردہ اس میز کے ذریعے توانائی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اس میز کے نیچے ایسے میٹریلز کو لگایا گیا ہے جو کمرے کا درجہ حرارت 71 ڈگری پر پہنچنے کے بعد نرم ہوکر اضافی حرارت کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اور پھر اسے المونیم کی مدد سے خارج کرکے کمرے کے ٹمپریچر میں نمایاں تبدیلی لے آتے ہیں۔آسان الفاظ میں یہ میز ایک تھرمل اسفنج کا کام کرتی ہے جو حرارت کو جذب کرکے اس وقت خارج کرتی ہے جب کمرہ مناسب حد تک ٹھنڈا ہوجائے۔اور ہاں یہ سردیوں میں کمرہ گرم کرنے کا کام بھی کرسکتی ہے۔جیسے اسے تیار کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیٹنگ ضروریات کو 60 فیصد تک جبکہ ٹھنڈک کی طلب 30 فیصد تک کم کرسکتی ہے اور صارفین کا توانائی پر ہونے والا بڑا خرچہ بچ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…