ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں اختلافات ،تحریک انصاف کی موجیں ہوگئیں، نتیجہ کیا نکلے گا؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) صدارتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات کے باعث پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے الگ الگ امیدوار کھڑے کرنے سے تحریک انصاف کا امیدواربآسانی کامیاب ہو جائے گا،

اپوزیشن کے متحد رہنے کی صورت میں تحریک انصاف کا امیدوار صدارتی انتخابات میں بآسانی کامیاب نہیں ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے شہباز شریف کو امیدوار نامزد کرنے پر پیپلز پارٹی نے انہیں ووٹ نہیں دیا، جس کے بعد متحدہ اپوزیشن اختلافات کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے،وزیراعظم کے انتخابات میں اگر متحدہ اپوزیشن میں اتفاق رائے ہو جاتا تو صدارتی انتخابات میں بھی متحدہ اپوزیشن کی طرف سے ایک ہی امیدوار دیا جانا تھا،لیکن اب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے الگ الگ امیدوار دیئے جانے کا امکان ہے، جس کا تمام تر فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہو گا اور تحریک انصاف کا امیدوار بآسانی جیت جائے گا کیونکہ صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کو ووٹ دیں گی اور یہ ووٹ تقسیم ہو ں گے جبکہ تحریک انصاف کے ارکان صرف ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیں گے جس کی وجہ سے اس کی کامیابی یقینی ہے جبکہ اپوزیشن کے امیدوار مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ صدارتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات کے باعث پاکستان تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے الگ الگ امیدوار کھڑے کرنے سے تحریک انصاف کا امیدواربآسانی کامیاب ہو جائے گا،اپوزیشن کے متحد رہنے کی صورت میں تحریک انصاف کا امیدوار صدارتی انتخابات میں بآسانی کامیاب نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…