پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 270 حلقوں میں سے کتنے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اور ان میں کتنی پارٹیوں کے سربراہ شامل تھے؟حیران کن تفصیلا ت سامنے آگئیں

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی ) پاکستان میں ہونے والے گیارہویں عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 270 حلقوں پر 2870 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں جس میں دس مختلف جماعتوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے طے شدہ اصول کے مطابق قومی اسمبلی کے کسی بھی حلقے سے ضمانت بچانے کے لیے کاسٹ کیے گئے

ووٹوں کا 25 فیصد حاصل کرنا ضروری ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تین حلقوں پر 66 میں سے 61 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ سندھ میں قومی اسمبلی کے 61 حلقوں پر 824 میں سے 696 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔۔پنجاب سے قومی اسمبلی کے 141 حلقوں پر 1501 میں سے 1241 امیدواروں ڈالے گئے ووٹوں کا 25 فیصد لینے میں ناکام ہوئے۔بلوچستان سے 16 حلقوں پر 287 میں سے 264 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں جب کہ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کے 39 حلقوں پر 411 میں سے 354 کی ضمانت ضبط ہوئی۔سابقہ فاٹا کے 12 حلقوں پر 266 میں سے 95 اعشاریہ 48 فیصد امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ انتخابات میں جن امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئی ان میں دس سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔۔مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف کی سوات سے ضمانت ضبط ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی لیاری اور مالاکنڈ سے ضمانتیں ضبط ہوئیں۔متحدہ مجلس عمل((ایم ایم ای)کے سربراہ فضل الرحمن کی ضمانت ڈیرہ اسماعیل خان سے ضبط ہوئی۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کوئٹہ سے بری طرح ناکام ہوئے۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپا ؤکی ضمانت چارسدہ سے ضبط ہوئی۔پاک سرزمین کے سربراہ مصطفی کمال کی کراچی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کی نوابشاہ اور عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کی ضمانت مظفر گڑھ سے ضبط ہوئی۔پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی سربراہ عائشہ گلا لئی کی 4 حلقوں این اے 53 اسلام آباد، این اے 25 نوشہرہ، این اے 231 سجاول اور این اے 161 لودھراں سے ضمانتیں ضبط ہوئیں۔بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ عبدالحئی بلوچ کی این اے 259 سے ضمانت ضبط ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…