پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں تندور سے ملنے والے الیکشن فارمز کا معاملہ، تحقیقات مکمل،فارمز تندور تک کیوں اور کیسے پہنچے؟الیکشن کمیشن نے رپورٹ جاری کردی، حیرت انگیز انکشاف

datetime 15  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد میں تندور سے ملنے والے الیکشن فارم عملہ کی تربیت کے لئے استعمال کئے گئے تھے اور اس عملی تربیت کے دوران استعمال شدہ کاغذات فالتو تصور کئے جاتے ہیں ، یہ کاغذات حاضرین تربیتی مقام پر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ بدھ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پر اسلام آباد میں تندور سے انتخابی فارم ملنے کے حوالے سے خبریں چلی ہیں

اس حوالے وضاحت کی جاتی ہے کہ یہ ریکارڈ کسی طرح سے بھی حاس اور اہم نہیں تھا۔کیونکہ وہ فارمز جن کا خبر میں ذکر کیا ہے وہ الیکشن کے عملے کی تربیتی مقاصد کیلئے استعمال کئے گئے تھے ۔ جن کا لیکشن ریکارڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن کمیشن نے تمام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز ، ریٹرننگ آفیسرز سے لے کر پولنگ آفیسرزکم بیش 8 لاکھ 71ہزار افراد کی تربیت کروائی ہے یہ تربیت ملک بھر کے مختلف سکولز اور کالجز ز میں کروائی گئی تھی۔ جن کی تعداد کم بیش 400ہے ان تمام ٹرنینگ کے مقامات پر وافر مقدارمیں سامان مہیا کیا گیاتھاجوکہ تربیت کے دوران استعما ل ہوا۔ تمام ٹریننگ عملی /تجرباتی طور پر کروائی گئی اور اس عملی ٹریننگ کے دوران استعمال شدہ کاغذات فالتو تصور کئے جاتے ہیں اور بسا اوقات حاضرین یہ استعمال شدہ فارمز زاوردیگر کاغذات ٹرنینگ کے مقام پر ہی چھوڑ دیتے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ الیکشن کا تمام حساس پولنگ ریکارڈ قانون اور ضابطہ کے تحت الیکشن کمیشن کے سڑانگ رومز میں جمع ہے جو باقاعدہ پاک فوج کی فراہم کردہ سیکورٹی میں ریٹرننگ آفیسرز نے سٹرانگ رومز میں جمع کروایا ہے جوکہ ہر طرح سے موجود اور محفوظ ہے ۔  الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد میں تندور سے ملنے والے الیکشن فارم عملہ کی تربیت کے لئے استعمال کئے گئے تھے اور اس عملی تربیت کے دوران استعمال شدہ کاغذات فالتو تصور کئے جاتے ہیں ، یہ کاغذات حاضرین تربیتی مقام پر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…