منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد:ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں اسکینڈل منظر عام پر

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) حکام اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایک اسکینڈل منظر عام پر لے کر آئے ہیں جس میں سیکڑوں لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ نیب راولپنڈی کے مطابق نیشنل ہاؤس بلڈنگ اینڈ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایچ بی آر ڈی سی) کے خلاف بڑے پیمانے پر عوام کے ساتھ مبینہ دھوکا دہی کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

نیب کو لاہور، پشاور، حیدر آباد، ڈیرہ غازی خان، لاہور، رحیم یار خان، فیصل آباد اور آزاد کشمیر سے درجنوں شکایات موصول ہوئیں۔ شکایت گزاروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے کمپنی کی جانب سے ٹیلی ویژن پر دیے گئے اشتہار کے بعد نیشنل گارڈن، ڈیفنس ویلی، نیشنل ٹاؤن، سر سید ٹاؤن، نیو اسلام آباد سٹی، ڈیفنس ایونیو میں پلاٹ خریدے تھے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی: لالچ اور قبضے کا لامحدود سلسلہ انہوں نے کہا کہ 24 سال گزرجانے کے باوجود انہیں پلاٹ کا قبضہ نہیں مل سکا ہے۔ جب ڈان نے این ایچ بی آر ڈی سی سے اس کا موقف جاننے کے لیے ان کی ویب سائٹ پر دیے گئے نمبرز پر رابطہ کیا تو کوئی ردِ عمل موصول نہیں ہوا۔ شکایت کنندگان کی درخواست کی تصدیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم عوام کو اشتہارات کے ذریعے مختلف اسکیم میں دھوکا دیا کرتا تھا۔ چونکہ یہ تشہیر پورے ملک میں کی جاتی تھی اسی وجہ سے ملزم کو یقین تھا کہ کچھ لوگ اس کے دھوکے میں ضروت آجائیں گے۔  کراچی کے قریب 10 ہزار ایکڑ پر مشتمل زمین قبضہ مافیا سے واگزار تحقیقات میں بات سامنے آئی کہ ملزم ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد انہیں پلاٹس کو 7 یا 10 سال بعد دوسری اسکیم میں منتقل کر دیتا تھا۔ نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹری جنرل عرفان نعیم منگی کا کہنا ہے کہ نیب لوٹی ہوئی رقوم کو عوام تک پہنچانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ان کہنا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر مجاز ہاؤسنگ اسکیموں میں زیادہ منافع کی لالچ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ضرور ہونی چاہیے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ حکومت سے منظور شدہ بینکنگ نظام اور سرمایہ کار کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…