منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان دنیامیں تبدیلی کے نعرے پر منتخب ہونیوالے دوسرے حکمران،’عمران اور سابق امریکی صدر باراک اوباما میں کیا کچھ مشترک ہے؟وہ اگر ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

آج پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کیلئے باقاعدہ نامزد کر دیا، جس کے بعد یہ دنیا میں تبدیلی کے نعرے پر منتخب ہونے والے دوسرے حکمران بن رہے ہیں، پہلے حکمران (باراک حسین) اوبامہ تھے‘ یہ چینج اور ہوپ دو نعرے لگا کر امریکا کے چوالیسویں صدر بنے تھے اور دوسرے عمران خان ہوں گے‘ آج عمران خان نے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی میں جو تقریر کی وہ صدر اوبامہ کی مشہور انتخابی مہم سے ملتی جلتی تھی‘

صدر اوبامہ نے شکاگومیں چار نومبر 2008ء کو جو کہا تھا، اس کے بعد اوبامہ نے اپنی وکٹری سپیچ میں بھی جو کہا تھا، یہ بھی عمران خان کے اس مشہور نعرے سے ملتی جلتی ہے، تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے۔ آج عمران خان نے پارلیمانی کمیٹی سے کہا، آج میری 22 سالہ جدوجہد کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور ہے، عوام ہم سے روایتی طرز سیاست اور روایتی حکومت کی امید نہیں کرتے، ہم نے اگر روایتی طرز حکومت اپنایا تو ہم عوام کے غضب کا نشانہ بن جائیں گے، میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا اور آج ہمیں اخلاقی لحاظ سے کمزور ترین حزب اختلاف کا سامنا ہے۔ عمران خان نے اس کے علاوہ دو اعلانات بھی کئے‘ پہلا اعلان یہ برطانیہ کی پارلیمانی روایات کے مطابق ہر ہفتے قومی اسمبلی میں سوالوں کا جواب دیں گے اور دوسرا اعلان ان کا دعویٰ ہے یہ جوخود نہیں کریں گے‘ یہ وہ کسی دوسرے کو بھی نہیں کرنے دیں گے‘ عمران خان نے آج ایک مثال بھی قائم کی‘ آج انہیں وزیراعظم کا پروٹوکول دے دیا گیا‘ یہ پروٹوکول میں میریٹ ہوٹل پہنچے لیکن اس کے بعد انہوں نے آئندہ غیر ضروری پروٹوکول لینے سے انکار کر دیا۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے، ان کے اعلانات بھی بہت اچھے ہیں‘ یہ اگر اسی طرح اپنے قول اور اعلانات پر قائم رہے تو یہ واقعی تبدیلی لے آئیں گے‘ یہ حقیقتاً طلسماتی لیڈر ثابت ہوں گے اور اگر یہ ناکام ہو گئے‘ یہ بھی سابق حکمرانوں کی طرح قول اور فعل کے تضاد کا شکار ہو گئے تو یہ بھی بری طرح عوام کے غصے کا نشانہ بن جائیں گے‘ کیا عمران خان ڈیلیور کرسکیں گے‘ یہ اپنے تمام وعدے پورے کرلیں گے اور اگر یہ ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ شاہ محمود قریشی کا خیال ہے،اپوزیشن غیراخلاقی ہے، کیا واقعی اپوزیشن غیر اخلاقی ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…